اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کالعدم طالبان سپاہ صحابہ نے جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ اسسٹنٹ پروفیسر وحید الرحمن کو جو یاسر رضوی کے نام سے مشہور تھے فائرنگ کرکے شہید کردیا ہے۔
فیڈرل بی ایئر میں آج صبح نام کے شبہ میں شیعہ سمجھ کر کالعدم دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ طالبان نے پروفیسر وحید الرحمن کو ٹارگیٹ کیا ہے، جبکہ پروفیسر وحید الرحمن کا تعلق مسلک اہلسنت سے ہے۔
پروفیسر وحید الرحمن پر قاتلانہ حملہ کی خبر کے بعد جامعہ کراچی میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کردی گئی ۔
واضع رہے کہ جامعہ کراچی سمیت دیگرتعلیمی اداروں پر طالبان کی جانب سے دہشتگردی کے بڑے حملے کے خطرے کا انکشاف خفیہ ادارے پہلے ہی کرچکے ہیں، لہذا اس ضمن میں حکومت کو چاہئے کے وہ ان جامعات کے استاتذہ کی سیکورٹی کے حوالے سے بھی فوری اقدام کریں۔

ابتدائی تفتیش
پروفیسر وحید الرحمان عرف یاسر رضوی کراچی پریس کلب کے ممبر تھے جبکہ ادب کے حوالے سے معروف شخصیت اور وفاقی اردو یونیورسٹی میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے، وہ گزشتہ دو سال سے جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ سے وابستہ تھے جبکہ جامعہ کراچی کے میڈیا ایڈوائزر بھی تھے۔
پولیس کی جانب سے ابتدائی تفتیش کے مطابق جامعہ کراچی کے استاد وحید الرحمن عرف یاسر رضوی کو 2 موٹر سائیکل پر سوار 4 نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنایا، ملزمان نے کارروائی میں نائن ایم ایم پستول استعمال کی ہے۔ ڈی آئی جی پولیس غربی فیروز شاہ کے مطابق وحید الرحمن کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ایف بی ایریا بلاک 16 میں نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے پہلے کار پر سامنے سے فائرنگ کی گئی بعد ازاں دروازے کی جانب سے بھی ان پر فائرنگ کی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے کارروائی میں نائن ایم ایم پستول استعمال کی۔ پولیس نے بتایا کہ وحید الرمان کو زخمی حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاسکے اور راستے میں ہی جاں بحق ہوگئے۔ واضح رہے کہ 42 سالہ وحید الرحمن جامعہ کراچی سے قبل وفاقی اردو یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ میں استاد رہ چکے تھے۔ وحید الرحمن کو یاسر رضوی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔
پولیس کے مطابق قاتلوں نے انھیں ریکی کرنے کے بعد یونیورسٹی جاتے ہوئے ایف بی ایریا بلاک سولہ میں نشانہ بنایا، جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے 6 خول برآمد ہوئے ہیں۔ واقعہ کے بعد جامعہ کراچی میں طلبہ نے احتجاج بھی کیا جبکہ انتظامیہ نے احتجاجاً تین دن کے لیے تعلیمی سرگرمیاں معطل کردی ہیں، وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر محمد قیصر اور وفاقی یونیورسٹی کے پروفیسر توصیف نے واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ پروفیسر وحید الرحمان عرف یاسر رضوی کراچی پریس کلب کے ممبر تھے جبکہ ادب کے حوالے سے معروف شخصیت اور وفاقی اردو یونیورسٹی میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے، وہ گزشتہ دو سال سے جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ سے وابستہ تھے جبکہ جامعہ کراچی کے میڈیا ایڈوائزر بھی تھے۔












.......
/169