اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کو ایک معاہدے میں تبدیل کرنے کی، امریکی سینٹ کی جانب سے مخالفت نے، عملی طور پر کانگریس میں سمجھوتے کی دو تہائی کی اکثریت سے منظوری کی ضرورت کو ناکام بنادیا۔
امریکی سینٹ کے نمائندوں نے منگل کے روز ایٹمی سمجھوتے پر کانگریس کی نگرانی کے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کو ایک معاہدے میں تبدیل کرنے کےلئے امریکی سینٹ کے منصوبے کو سینیٹروں نے سینتیس موافق ووٹوں کے مقابلے میں ستّاون مخالف ووٹوں سے مسترد کردیا۔ اس منصوبے پر عملدر آمد کےلئے سینٹ کے دوتہائی ووٹوں کی ضرورت تھی۔
ایٹمی سمجھوتے پر کانگریس کی نگرانی کے منصوبے کی، جو ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے پر نظر ثانی کے قانون" سے موسوم ہے، دو ہفتے قبل سینٹ کی تعلقات عامہ کمیٹی میں منظوری دی گئی تھی۔
اس سے قبل امریکہ کی سابق وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ سمجھوتہ ایک نافذالعمل معاہدہ ہے اور اسے کانگریس سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی اخبار "بوسٹن گلوب" کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ اگر امریکی کانگریس، سیاسی وجوہات کی بناء پر ایران کے ساتھ ممکنہ ایٹمی سمجھوتے کو ختم کرنا چاہتی ہے تو یہ اقدام، ایران کے خلاف پابندیوں کے نظام کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔
جان کیری نے کہا کہ اگر روس، چین ، جرمنی، فرانس، اور برطانیہ نے ایران کے ایٹمی سمجھوتے کی تائید کردی اور ان ملکوں کے ماہرین یہ کہہ دیں کہ یہ ایک اچھا سمجھوتہ ہے ، لیکن کانگریس سیاسی وجوہات کی بنیاد پر اس سمجھوتے کو ختم کردے، تو یہ تمام ممالک خود کو امریکہ کے راستے سے، الگ کرلیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جدائی پڑنے سے، پھر پابندی کا مسئلہ نہیں رہ جائے گا کیوں کہ ایسے حالات میں، ان ممالک میں سے کوئی بھی پابندیوں پر عمل نہیں کرے گا اور امریکہ بھی گروپ پانچ جمع ایک کے ممالک کو متحد رکھنے پر قادر نہیں رہے گا۔
.......
/169