اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق کی مجلس اعلای اسلامی کے سربراہ نے جمعے کے روز شہید محراب سید محمد باقر حکیم کی یاد میں منعقدہ ایک پروگرام میں، عراق اور علاقے میں رونما ہونے والے واقعات کو مشرق وسطی کا نقشہ تبدیل کرنے کی کوششوں سے مربوط قرار دیا اور کہا کہ ہم اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ یہ فتنہ عملی شکل اختیار کرے۔ سید عمار حکیم نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ عراق میں رونما ہونے والے واقعات نئے مشرق وسطی منصوبے کا ایک حصہ ہیں کہا کہ ہم مشرق وسطی کے ایک ایسے علاقے میں ہیں جہاں سازشوں اور فتنوں کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اگر ہم نے غفلت کی تو ان سازشوں کو عملی جامہ پہنانے میں کوشاں افراد، اپنے ہدف کو حاصل کر لیں گے۔ عراق کی مجلس اعلای اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ ہم کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے اور اپنے دینی اور قومی بھائیوں کے ساتھ ان سازشوں کے مقابلے میں ڈٹ جائیں گے تاکہ عراق کو سازشوں کے طوفان سے نکال کر ساحل امن تک پہنچا دیں۔ عمار حکیم نے یمن کی حالیہ جنگ کے سلسلے میں بھی کہا کہ ہم عقل کی آواز بلند ہونے، جنگ کے روکے جانے اور پرامن اور سیاسی راہ حل کی جانب واپسی کا استقبال کرتے ہیں۔ عراق کی مجلس اعلای اسلامی کے سربراہ نے یمن کے بحران کا واحد حل مذاکرات کو قرار دیا اور کہا کہ اگرچہ علاقے میں ہمارے اختلافات جزئی ہیں تاہم ہماری سرنوشت مشترک ہے۔ عمار حکیم نے کہا کہ آج جو آگ بھڑکائی گئی ہے اس کے شعلے شام سے صحرائے سینا اور موصل سے صنعا تک کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں اور ہم سب کو اس بات کو درک کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا علاقہ اب مزید بڑی جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔
.......
/169