25 اپریل 2015 - 11:22
آرمینیائی باشندوں کا قتل عام، پوتین کے بیان پر ترکی کا ردعمل

ترکی نے جمعے کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتین کے، عثمانی ترکوں کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے بارے میں بیان کی مذمت کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے بارے میں روسی صدر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں روس کو چاہئے کہ جسے نسل کشی کا نام دیا جا رہا ہے اس کے بارے میں بہتر طور پر اداراک پیدا کرے اور اس کے قانونی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھے، اس لئے کہ روس کی اس قسم کی غلطیوں کی تکرار سے علاقے میں امن کی برقراری میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے جمعے کو، آرمینیا کے دارالحکومت ایراوان میں پہلی جنگ عظیم میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے ایک سو سال پورے ہونے کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروگرام میں کہا کہ کوئی بھی چیز اس قتل عام کی توجیہ نہیں کر سکتی۔ دنیا بھر کے آرمینیائی باشندوں کا ماننا ہے کہ پندرہ لاکھ ارمنیوں کو انیس سو پندرہ اور انیس سو سترہ کے درمیانی برسوں میں عثمانی ترکوں نے قتل کیا تھا۔ یہ قتل عام، انیس سو پندرہ میں، ترکی کے موجودہ شہر استنبول میں، کہ جسے قسطنطنیہ کہا جاتا تھا، آرمینیائی برادری کے دو سو ممتاز اور روشن خیال افراد کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔ آرمینیائی عوام برسوں سے عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس تلخ تاریخی واقعے کو ایک نسل کشی قرار دیا جائے۔ جبکہ ترکی اس بات کا مدعی ہے کہ تین لاکھ سے پانچ لاکھ آرمینیائی باشندے، پہلی عالمی جنگ کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں مارے گئے ہیں اور اسے ہرگز نسل کشی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

.......

/169