21 اپریل 2015 - 11:05
شام اور فرانس میں معلومات کا تبادلہ نہیں ہے: بشار اسد

شام کے صدر بشار اسد نے فرانس کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست تعاون کی تردید کی ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر نے فرانس کے سرکاری ٹی وی چینل دو سے بات چیت میں کہا کہ پیرس اور دمشق کے درمیان رابطہ موجود ہے لیکن تعاون اور معلومات کا تبادلہ نہیں ہے- انھوں نے کہا کہ یہ رابطہ صرف فرانس کی انٹیلی جنس کی وزارت کے عہدیداروں کے ساتھ جاری ہے کہ جنھوں نے حال ہی میں شام کا دورہ کیا- صدر بشار اسد نے کہا کہ دہشت گرد گروہ داعش کو دو ہزار چھ میں امریکہ کی نگرانی میں قائم کیا گیا- انھوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان کے جوان شامی حکومت کی درخواست پر شامی فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور شام میں کوئی بھی ایرانی فوجی موجود نہیں ہے- شام کے صدر نے فرانس اور دیگر مغربی حکومتوں کی جانب سے شامی مخالفین کی حمایت کرنے اور ان انتہا پسند گروہوں کو اعتدال پسند مخالفین کا نام دینے پر تنقید کی- شام کے صدر نے اسی طرح شامی فوج کی جانب سے ادلب صوبے میں کیمیاوی حملوں یا بیرل بموں کے استعمال پر مبنی پروگرام کے میزبان کے دعوے کے جواب میں کہا کہ شام اس قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت محسوس نہیں کرتا- انھوں نے مغرب کے ساتھ تعاون کے بارے میں بھی کہا کہ دمشق اس صورت میں مذاکرات کو قبول کرے گا کہ جب مغرب شام کو قائل کر لے کہ وہ دہشتگردوں کی حمایت اور مدد نہیں کر رہا ہے-

.......

/169