21 اپریل 2015 - 08:12
بحیرہ روم میں ڈوبی کشتی کی ہلاکتیں ۸۰۰، عملے کے دوارکان گرفتار

بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 800 ہو سکتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 800 ہو سکتی ہے۔
ادھر اطالوی پولیس نے ڈوبنے والی کشتی کے عملے کے دو ارکان کوگرفتار کیا ہے جن پر مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
گرفتار کیے جانے والوں میں تیونس سے تعلق رکھنے والا شخص ممکنہ طور پر کشتی کا کپتان تھا جبکہ شام سے تعلق رکھنے والا شخص عملے کا رکن تھا۔
ان دونوں افراد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب حادثے میں بچنے والے افراد کو لے کر ایک کشتی اطالوی شہر سسلی میں کاتانیا کی بندرگاہ پہنچی۔
لیبیا کے راستے یورپ کا رخ کرنے والے تارکینِ وطن کی کشتی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب لیبیائی ساحل سے 27 کلومیٹر کی دوری پر غرقاب ہوگئی تھی۔
ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ کشتی پر 700 افراد سوار تھے جن میں سے صرف 27 کو ہی بچایا جا سکا تھا۔
تاہم اس حادثے میں بچنے والے افراد نے ساحل پر پہنچنے پر بتایا تھا کہ کشتی کے مسافروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔
منگل کو اٹلی میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی ترجمان کارلوٹا سامی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد 800 ہے۔‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲