اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق میں امدادی کام کرنے والے اہلکاروں نے انکشاف کیا ہے کہ کرکوک شہر کے قریب رہا کئے جانے والے 200 افراد میں ایک نو سالہ بچی بھی شامل تھی جسے گزشتہ ایک سال کے دوران داعش کے کم از کم 10 جنگجوؤں نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔ امدادی کارکن یوسف داؤد نے اخبار ”ٹورنٹو سٹار“ کو بتایاکہ یہ بچی بھی ان خواتین اور لڑکیوں میں شامل تھی جنہیں گزشتہ سال جون میں سنجار کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچی کو کمسنی اور صحت کے مسائل کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہےں کیونکہ بچے کو جنم دینے کی صورت میں اس کی موت ہوسکتی ہے جبکہ اس کا آپریشن کرنا بھی نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ طویل عرصے تک جنگجوؤں کی حیوانیت کا نشانہ بننے کی وجہ سے بچی کی جسمانی اور ذہنی حالت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اخبار کے مطابق ایک کرد خیراتی ادارے نے بچی کو جرمنی بھجوادیا ہے جہاں اس کا علاج اور دیکھ بھال جاری ہے۔
.....
/169