اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اہلبیت اسمبلی ہندوستان اور مجلس علماء ہند کے باہمی اشتراک سے دفتر مجلس علماء ہند غفرانمآب چوک میں ”عصر حاضر میں سیرت فاطمہ زہرا ؑ کی اہمیت“ کے موضوع پر ایک سمپوزیم کا انعقاد ہوا۔ افتتاحی تقریر میں ڈاکٹر تقی علی عابدی صدر شعبہ علوم مشرقیات لکھنو یونیورسٹی نے کہا کہ عورت کے وجود کو قرآن نے مرد کے لئے وجہ سکون قرار دیا ہے۔ قرآن نے سکون کا لفظ رکھ کر اسکے مفہوم کو وسیع کردیا ہے، عورت اگر چاہے تو زندگی کو عذاب بناسکتی ہے اور عورت ہی سماج و معاشرہ کو سکون سے ہمکنار کرسکتی ہے۔ زوجہ اگر شوہر کے ساتھ تعاون کرے اور شوہر زوجہ کے ساتھ اسکی مشکلات میں معاونت کرے تو زندگی میں سکون ہوگا اور اگر یہ تعاون خود غرضی، انانیت اور فریب کا شکار ہوگیا تو زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر تقی علی عابدی نے مزید کہا کہ دہلی یا ہندوستان اور دنیا بھر میں جتنے بھی زنا بالجبر کے حادثات رونما ہوتے آرہے ہیں انکا ایک سبب عریانیت بھی ہے، آج عورت اپنی آزادی کے نام پر صرف عریانیت کی طلبگار ہے دیگر حقوق جزوی طور پر سامنے آتے ہیں۔ کیا کم کپڑے پہن کر، ہیجان انگیز ماحول میں ترقی ممکن ہے۔ سماج نے عورت کو فریب دیا ہے اور و ہ اس دام فریب میں الجھ گئی۔
مولانا محمد جابر جوراسی مدیر ماہنامہ ’’اصلاح‘‘ نے کہا سیرت فاطمہ زہرا (ع) کا ہر پہلو نمونہ عمل ہے۔ اگر خانگی ماحول کو بہتر بنانا ہے، شر اور فساد سے محفوظ رہنا ہے تو شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہئے۔ اولاد کی تربیت ہو یا گھریلو امور کی ذمہ داری ہو اگر باہمی تعاون ہوتا رہے تو بہترین اولاد وجود میں آئیگی اور گھر جنت نظیر بن جائیگا۔ مولانا جوراسی نے کہا کہ پردہ کو صہیونی و سامراجی اور اسلام دشمن طاقتوں نے منصوبہ بند سازشوں کے تحت بدنام کیا ہے ورنہ عورت کے تخلیق جوہر پردہ میں مزید ابھر کر سامنے آتے ہیں اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں وہ مرد کے شانہ بہ شانہ آگے بڑھ سکتی ہے، آج عورتیں پردہ میں رہکر ہر میدان میں ترقی کررہی ہیں، عورت آج پائلٹ بھی ہے، دفتروں میں کام بھی کررہی ہے، پروفیسر کے عہدوں پر فائز ہے، بنکوں میں ملازم ہے غرضکہ ہر شعبہ میں کام کرتی نظر آتی ہے لیکن پردہ کہیں اسکے ارتقاء میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ ایک سازش تھی کہ دنیا کو پردہ سے متنفر کردیا جائے اب یہ طلسم ٹوٹ رہا ہے اور حقیقت سامنے آرہی ہے۔
مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے اپنی اختتامی تقریر میں کہا کہ صدیقہ طاہرہ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ آج ہمارے معاشرہ میں زوجہ شوہر سے بیجا فرمائشیں کرتی ہے جسکی بنیاد پر خانگی ماحول خراب ہوتا جاتا ہے نتیجہ طلاق تک پہونچتا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا ؑ نے کبھی اپنے شوہر سے کسی طرح کی کوئی فرمائش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پردہ پر جتنے اعتراضات کئے جاتے ہیں انکی نوعیت احمقانہ ہے ایسا صرف اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ عورت کی آغوش میں جو نسل پرورش پائے وہ بھی اسلامی نہ ہو، اگر ماں اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہوگی تو اسکی آغوش میں پرورش پانے والی نسل بھی اسلام بیزار ہوگی اس طرح اسلام دشمن طاقتوں کا کام آسان ہوجاتا ہے اور وہ اسلام کے خلاف جو بھی پروپیگنڈہ کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتا ہے کیونکہ جو نسل مسلمان بن کر معاشرہ میں زندگی گذار رہی ہے وہ صرف نام کی مسلمان ہے اسے اسلامی تعلیمات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ آج دنیا کو ایسے ہی مسلمانوں کی ضرورت ہے جنہیں جب جہاں چاہیں استعمال کیا جاسکے۔
مولانا سید کلب جواد نے کہا کہ عورت کی معراج یہ ہے کہ وہ ایک اچھی ماں ثابت ہو کیونکہ وہ ایک صالح نسل معاشرہ کو دے سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ میرے اسی بیان کو میڈیا نے غلط طریقے سے پیش کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج عورت اور عورت کو فریب دینے والی طاقتیں اور میڈیا کہتا ہے کہ عورت کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہونی چاہئے۔ جتنے واقعات ہورہے ہیں اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہے اسے پوری آزادی حاصل ہے، وہ چاہے جیسے رہے جیسا لباس چاہے پہنے، یہ مردوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ محتاط رہیں اور اسکی آزادی کا فائدہ نہ اٹھائیں مولانا نقوی نے کہا کہ یہ تو بالکل ایسا ہی کہ کوئی اپنی تنخواہ لیکر گھر آئے اور تجوری دروازہ پر رکھ کر سکون سے گھر میں سو جائے۔ اگر تجوری چوری ہوجائے تو کیا وہ یہی کہے گا کہ ہمیں پوری آزادی حاصل ہے کہ جہاں چاہیں سامان رکھیں یہ تو چوری کرنے والوں کی غلطی ہے، لہذا احتیاط دونوں طرف سے ضروری ہے۔ سمپوزیم کا تعارف مولانا اصطفیٰ رضا نے پیش کیا اور آخر میں شکریہ کی رسم پروگرام کے کنوینر عادل فراز نے انجام دی۔ سمپوزیم میں ہفتہ وار دینی کلاسیز کے اسٹوڈینٹس کے علاوہ بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی اور آخر میں تقاریر سے متعلق سوال و جواب بھی ہوئے۔
۔۔۔۔۔
/169