اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے گزشتہ روز یمن کے صوبہ صعدہ کے علاقے ’’بقع‘‘ پر بمباری کر کے ۱۵ یمنی شہریوں کو شہید اور دسیوں کو زخمی کیا۔
سعودی عرب کا دعویٰ تھا کہ اس نے اس بمبارمنٹ میں صرف یمنی فوج اور انصار اللہ کے سپاہیوں کو نشانہ بنایا لیکن اس واقعہ کی شائع شدہ تصاویر یہ بتاتی ہیں کہ سعودی عرب اس بربریت کا نشانہ بننے والے عام شہری ہیں جس میں کئی عورتیں بچے جوان بوڑھے شامل ہیں۔
سعودی رژیم نے یمن پر حملے کو ’’طوفان قاطع‘‘ کا نام دیا اور اس میں جدید اسلحے حتی غیر قانونی اسلحے کا بھی استعمال کیا جس کا واضح ثبوت ان حملوں میں نشانہ بننے والوں کی لاشیں ہیں۔
یمن کے ذرائع نے ہفتے کے روز جنوبی عدن کے ایک گودال سے ۹ جلی بھنی لاشوں کا انکشاف کیا۔ ذرائع کے مطابق اس گودال میں مزید ۹ لاشیں ابھی باقی ہیں لیکن بمباری کی وجہ سے انہیں نکالنا دشوار ہو رہا ہے۔
یمن کی وزارت صحت نے گزشتہ تین دنوں میں سعودی عرب کی طرف سے ہوئے حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد ۷۳ افراد بیان کی جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد ۱۴۶ ہے۔ البتہ یہ تعداد صرف تین صوبوں صنعا، حجہ اور صعدہ سے مربوط ہے جبکہ صوبہ لحج اور مارب پر حملوں کی دقیق رپورٹ ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے۔
یہ ایسے حال میں ہے کہ امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر نے کہا ہے: یمن پر ہمارے حملے مزید شدت اختیار کریں گے اور دیگر علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیں گے۔ انہوں نے ان حملوں کی وجہ بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا: ہم نے یہ حملے منصور ہادی کی قانونی حکومت کی حمایت میں انجام دئے ہیں۔
سعودی عرب کے بادشاہ نے بھی یمن پر جارحیت کی وجہ منصور ہادی کی حمایت قرار دیا اور کہا کہ جب تک ہم اپنے مقصد کو نہ پہنچیں جائیں حملے جاری رکھیں گے۔
دوسری طرف انصار اللہ کے ایک اہم رکن نے سعودی جارحیت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ان حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کی خبر دی ہے اور کہا ہے: انصار اللہ عوامی حمایت کے ساتھ سعودی رژیم اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دے گی۔











