اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ باخـر ذریعے نےترکی کے دارالحکومت انقرہ میں قطر اور عراق کے حکام کے ایک خفیہ اجلاس کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہےکہ قطر نے تکریت سے داعش کے غیر ملکی عناصر کو نکالنے کے لیے عراقی حکومت سے ایک محفوظ راہداری فراہم نے کی درخواست کی ہے۔العالم ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزارت خارجہ میں ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ قطر کے ایک وفد نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں عراقی حکام کے ساتھ ملاقات میں ان سے درخواست کی ہے کہ وہ تکریت میں عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے محاصرے میں آئے ہوئے داعش کے غیرملکی دہشت گردوں کو ایک محفوط راہداری فراہم کرکےعراق سے شام جانے کی اجازت دے دیں۔ قطری وفد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس معاہدے میں داعش کے عراقی عناصر شامل نہیں ہوں گے اور عراقی حکومت داعش کے عراقی دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا سلوک کرنے میں آزاد ہے۔ قطر نے اسی طرح یہ بھی ضمانت دی ہے کہ غیرملکی داعش دوبارہ عراق واپس نہیں آئیں گے کیونکہ عراق سے نکل کر شام جانے کے بعد انھیں ترکی منتقل کیا جائے گا اور پھر انھیں ان کے ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔ مذکورہ ذریعے کا کہنا ہے کہ عراق نے اگر اس درخواست کو قبول کر لیا تو قطر اس کے جواب میں داعش کے حملوں میں تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیرنو کرے گا۔ اس ذریعے نے یہ نہیں بتایا کہ عراقی حکام نے اس درخواست کا کیا جواب دیا۔
.....
/169