اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ اور امریکہ کے وزیر توانائی اور ایران اور امریکہ کے نائب وزرائے خارجہ اور ماہرین کے درمیان مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ختم ہو گئے ہیں- یہ مذاکرات ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہے-
رپورٹ کے مطابق ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی اور امریکہ کے وزیر توانائی ارنسٹ مونیز کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئے- ان مذاکرات میں انھوں نے ایران کے ایٹمی معاملے کے فنی اور تکنیکی مسائل کا جائزہ لیا- ان مذاکرات کی ابتدا میں ایران کے نائب وزرائے خارجہ سید عباس عراقچی اور مجید تخت روانچی، امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین اور دونوں ملکوں کے ماہرین بھی موجود تھے- اس کے بعد علی اکبر صالحی اور ارنسٹ مونیز نے علیحدہ مذاکرات انجام دییے جبکہ ایران اور امریکہ کے نائب وزرائے خارجہ کے الگ مذاکرات ہوئے- علی اکبر صالحی اور مونیز ارنسٹ نے تیسری مرتبہ ایٹمی مذاکرات میں شرکت کی ہے- العام ٹی وی چینل نے بھی ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے حوالے سے کہا ہے کہ مذاکرات تمام مذاکراتی فریقوں کے وعدوں اور جزئیات کے بارے میں ہوں گے- انھوں نے کہا کہ فنی مسائل میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن بعض امور کے لیے مزید مذاکرات اور جائزے کی ضرورت ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲