13 مارچ 2015 - 18:27
آقائے اختری: داعشی ٹولے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں/ ترکی سفیر: اس وقت اتحاد مسلمین کی اہم ضرورت ہے

حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے داعش کے بھیانک اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹولے نے ایسی ایسی جنایتیں انجام دی ہیں جو حیوان بھی انجام نہیں دیتے ان کی سوچ اسلامی کیا انسانی بھی نہیں ہے وہ نہ شیعہ ہیں نہ سنی ان کا کسی دین سے کوئی تعلق نہیں۔ داعشی ٹولہ دین سے خارج ہے اس کے کام اسلام کی توہین کا باعث بن رہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں ترکی کے سفیر ’’ہاکان تکین‘‘ نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری کے ساتھ ملاقات کی۔
انہوں نے ترکی میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ سے ملاقات کا اشتیاق تھا۔
انہوں نے اس ملاقات میں علاقے کے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس سے اس وقت فرقہ واریت کی وبا پورے عالم اسلام میں پھیل چکی ہے مسلمان اسلام کے نام پر اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر مسلمان کا گلہ کاٹتا ہے! داعش کی بربریت نے دنیا میں اسلام کی غلط تصویر پیش کی ہے۔
ترکی کے سفیر نے مزید کہا: موجودہ حالات کے پیش نظر اہل بیت عالمی اسمبلی کے کارناموں جیسے کام انجام دینا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زود دیتے ہوئے کہ ترکی عالم اسلام کے ساتھ اچھے روابط رکھنا چاہتا ہے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ دنیائے اسلام کے ساتھ اتحاد کی فضا قائم کریں۔
ہاکان تکین نے ترکی کی شیعہ تنظیم کے سربراہ محمد گورمز کے ذریعے شیعہ سنی اتحاد پیدا کرنے کے میدان میں کی جانے والی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دوسرے ممالک میں بھی ایسی ہی فضا قائم ہونا چاہیے۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں ترکی کے سفیر نے کہا: میں پہلے وزارت خارجہ میں عراق کے ساتھ خارجہ پالیسی کے امور کا عہدہ دار تھا تو اس دوران ہم نے آیت اللہ سیستانی کے ساتھ ملاقات کی انہوں نے بہت ہی گرم انداز میں ہمارا استقبال کیا۔
انہوں نے کہا: ہم نے عراق میں امام علی (ع)، امام حسین(ع) اور حضرت عباس(ع) کے روضوں کی زیارت بھی کی اور وہاں کی معنوی فضا سے بہت لذت کا احساس کیا۔
انہوں نے حجۃ الاسلام و المسلمین اختری کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہ ایران کے ساتھ ترکی کے روابط بہت ہی دوستانہ ہیں کہا: ایران کی حکومت اور عوام ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے میں بہت خوش ہیں اور ان دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی دوستانہ اور مستحکم ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سربراہ نے اس ملاقات میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلام کے دشمنوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اسلامی سماج میں اختلافات اور تفرتیں پیدا کریں کہا: دو بڑے اسلامی ملک ایران اور ترکی آپسی اتحاد اور یکجہتی سے علاقے میں بڑی قوت بن سکتے ہیں۔
انہوں نے ترکی کے سفیر کو مخاطب کر کے کہا: آپ جانتے ہیں کہ امام خمینی (ع) اور پھر رہبر معظم انقلاب ہمیشہ اتحاد پر تاکید کرتے آئے ہیں اس لیے کہ اتحاد اور یکپارچگی مسلمانوں کی عقلی ضروریات میں سے ایک ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے داعش کے بھیانک اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹولے نے ایسی ایسی جنایتیں انجام دی ہیں جو حیوان بھی انجام نہیں دیتے ان کی سوچ اسلامی کیا انسانی بھی نہیں ہے وہ نہ شیعہ ہیں نہ سنی ان کا کسی دین سے کوئی تعلق نہیں۔ داعشی ٹولہ دین سے خارج ہے اس کے کام اسلام کی توہین کا باعث بن رہے ہیں۔
اہل بیت عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی گزشتہ ۲۶ سالہ کارکردگیوں کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسمبلی کی ایک کوشش یہ ہے کہ وہ ہر ملک میں مستقبل طور پر مقامی تنظیم قائم کرے جو اس ملک کے قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے دینی خدمات انجام دے۔
انہوں نے کہا: اس وقت دنیا کے ۱۲۰ ممالک سے ۳۵۰ دینی ادارے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ساتھ مرتبط ہیں جو اپنے اپنے ملکوں میں رجسٹرڈ ہیں اور دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے اسمبلی شعبہ نشر و اشاعت کی خدمات کو بیان کرتے ہوئے کہا: اس شعبہ نے تاہم دنیا کی ۵۵ زندہ زبانوں میں کتابیں ترجمہ کروا کر شائع کی ہیں۔ علاوہ از ایں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں اور ثقافتی پروگراموں میں بھرپور حصہ لیتی ہے۔
انہوں نے اسمبلی کی نیوز ایجنسی ’’ابنا‘‘ کی کارکردگی کیطرف اشارہ کیا اور کہا کہ اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی (ابنا) اس وقت دنیا کی بیس زبانوں میں عالم اسلام کی تازہ خبروں کی عکاسی کر رہی ہے اور عالم اسلام کے اندر ایک اہم نیوز ایجنسی کے عنوان سے جانی جاتی ہے۔
ترکی کے سفیر نے اس ملاقات کے آخر میں اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کا وعدہ کیا اور ترکی میں اس ادارہ کے تحت مزید خدمات پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
اس ملاقات میں اسمبلی کے بین الاقوامی امور کے عہدہ دار حجۃ الاسلام و المسلمین سالار اور ایشیا اور اوقیانوسیہ کے مدیر کل مھدی جہان تاب بھی موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲