13 مارچ 2015 - 14:11
ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں ہٹائے جانے کے بارے میں گفتگو

دنیا کی بڑی طاقتیں ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی عائد پابندیوں کےخاتمے کے بارے میں مذاکرات کررہی ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی بڑی طاقتوں نے، تہران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتہ ہوجانے کی صورت میں، ایران کے خلاف پابندیاں منسوخ کئے جانے کے لئے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے بارے میں مذاکرات کا آغاز کردیا ہے، یہ اقدام ، امریکی کانگریس کے ذریعے کسی بھی سمجھوتے کو منسوخ کرنے کے امکان کو مشکل بنادے گا۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات چین، برطانیہ، فرانس، روس اور امریکہ اور جرمنی کے درمیان ایسے میں ہو رہے ہیں کہ آئندہ ہفتے سے، تہران کی ایٹمی صلاحیت کو محدود کرنے کے سلسلے میں، سخت و دشوار مذاکرات کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایران کی خلاف پابندیوں سے مختص چار قراردادوں سمیت آٹھ قراردادوں کے مطابق، ایران کو یورینم افزودہ کرنے اور دیگر حساس ایٹمی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت نہیں ہے اور اسی طرح ایٹمی ٹکنالوجی اور بیلسٹک میزائل سے مربوط چیزوں کی خریداری پر بھی پابندی عائد ہے۔

اقوام متحدہ نے اسی طرح ایران پر ہتھیاروں کی پابندی بھی لگا رکھی ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین، ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائدکرنے کے لئے ، یورینئم کی افزودگی اور دیگر حساس ایٹمی سرگرمیوں کے سلسلے میں، اقوام متحدہ کی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کو جواز بناتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بدھ کے روز کانگریس میں کہا تھاکہ ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتہ، قانونی لحاظ سے لازم الاجراء نہیں ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ کے امریکی صدور اس پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ریپبلکن کے سینتالیس سینیٹروں نے پیر کے روز اپنے خط میں لکھا ہے کہ کانگریس کی عدم موافقت کی صورت میں،ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کو، صرف جنوری دو ہزار سترہ یعنی اوباما حکومت کے خاتمے تک ہی رسمیت حاصل رہے گی۔ لیکن ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کے سلسلے میں سلامتی کونسل کی قرارداد، کہ جس کے بارے میں مغرب کے سفارتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ، ممکن ہے کہ قانونی اعتبار سے لازم الاجراء ہو ، تو ایسے میں اس ایٹمی سمجھوتے کو ختم کرنے کے لئے مستقبل میں ریپبلیکنز کی تمام کوششیں شاید بے نتیجہ رہ جائیں۔

.......

/169