12 مارچ 2015 - 10:55
داعش کی جنسی تسکین کے لئے شام جانے والی لڑکیوں پر چوری کا الزام

بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش کے لئے جنسی خدمات پیش کرنے والی تین طالبات کے بارے میں برطانوی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ تینوں لڑکیاں اپنے گھروں سے زیورات چوری کرکے فرار ہوئی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ داعش میں شمولیت کیلئے شام جانے والی تین برطانوی لڑکیوں نے اپنے گھروں سے پہلے زیورات چوری کیے اور پھر ان سے حاصل ہونے والی رقم سفر پر خرچ کی۔

16 سالہ خدیجہ سلطانہ، 15 سالہ شمیمہ بیگم اور عمیرہ عباس نے گزشتہ ماہ اپنے گھروں کو چھوڑا اور استنبول روانہ ہوئیں جہاں سے وہ مبینہ طور پر داعش میں شمولیت کیلئے شام پہنچیں۔
برطانیہ کی انسداد دہشتگردی پولیس نے پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے امور داخلہ کو شواہد فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ان لڑکیوں نے ٹریول ایجنٹ کو سفر کیلئے ایک ہزار پائونڈ سے زائد رقم دی۔
دوسری جانب مذکورہ لڑکیوں کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے لڑکیوں نے سفر کیلئے رقم کا بندوبست کہیں اور سے کیا ہو کیوں کہ جو زیور غائب ہیں وہ زیادہ قیمتی نہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ شام میں سرگرم دہشت گرد گروہ داعش کے مسلح افراد کی جنسی تسکین کے مقصد سے شام جانے والی برطانوی لڑ کیو ں کی تعداد چھبیس تک پہنچ گئی ہے۔
داعش سمیت شام میں سرگرم دہشت گردوں کو مغربی ملکوں کی بلواسطہ یا بلاواسطہ مدد و حمایت حاصل ہے اور ایک منظم سازش کے تحت یورپ میں بسنے والے مسلمان گھروں کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ترکی کے تعاون سے شام بھیجا گیا ہے تاہم تین کم سن و سال لڑکیوں کے بطور "سیکس ورکر" شام جانے کے رسواکن اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد حکومت برطانیہ اور اس کے خفیہ اداروں نے خود کو اس معاملے سے الگ ظاہر کرنا شروع کردیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی دربارسے وابستہ نام نہاد مفتیوں کا گمراہ کن فتوی "جہاد النکاح" مسلمانوں کی جگ ہنسائی کا سبب بن گیا ہے۔ جہالت اور گمراہیوں میں غرق سعودی مفتیوں کے اس فتوے کے تحت ہر لڑکی حتی شادی شدہ خاتون بیک وقت کئی کئی نام نہاد جہادیوں کی جنسی تسکین کا فریضہ نبھاسکتی ہے-

۔۔۔۔۔۔۔

/169