9 مارچ 2015 - 09:54
عراق میں داعش کے ہاتھوں آثار قدیمہ کی تباہی جاری ہے

تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے موصل میں ایک اور تاریخی شہر کو تباہ کردیا-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے صوبہ نینوا میں آثار قدیمہ کے ماہر "جمعہ عبداللہ حسن" نے کہا ہےکہ تکفیری دہشتگردوں نے شہر موصل کے شمال میں خورسیباد نامی تاریخی شہر کو تباہ کردیا ہے- جمعہ عبداللہ حسن نے کہا کہ داعش نے اتوار کو الحضر نامی تاریخی شہر کو تباہ کرنے کے بعد "خورسیباد" علاقے میں آشوری عیسائیوں کے تاریخی آثار بھی تباہ کردئے- عراق کے اس ماہر آثار قدیمہ نے کہا کہ شہر "خورسیباد" میں آشوری تہذیب و تمدن کے آثار قدیمہ موجود ہیں- انہوں نے خورسیباد کے شہریوں کے حوالے سے کہا کہ تکفیری دہشتگرد گروہ کے عناصر اس شہرکے بیشتر آثار قدیمہ چوری کرکے لے گئے اور کچھ آثار قدیمہ کو ذرائع ابلاغ کے سامنے تباہ کردیا- واضح رہے تکفیری دہشتگرد گروہ نے امریکہ، سعودی عرب اور صیہونی حکومت کی حمایت سے جون دوہزار چودہ میں شام اور عراق کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا- داعش نے جس کی انتھا پسندانہ افکار کا سرچشمہ وہابیت ہے، اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نہایت ہی انسانیت سوز اقدامات کئے ہیں جن میں مردوں کا قتل عام، خواتیں اور بچوں کو قید کرکے کنیزوں اور غلاموں کی حیثیت سے فروخت کرنا اور اسلامی اور دیگر ادیان کے مقدسات کی توہین اور انہیں تباہ کرنا شامل ہے- مبصرین کا کہنا ہےکہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے آل سعود کے پیسے سے اس تکفیری دہشتگرد گروہ کو جنم دیا ہے-

.......

/169