4 مارچ 2015 - 17:39
ماضی کے مجرم مستقبل کے امن کی بات کر رہے ہیں: صدر روحانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنےکہا ہے کہ ہم ایٹمی مذاکرات میں ایک ایسے سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں جو ایرانی عوام علاقے اور پوری دنیا کے فائدے میں ہو

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں  تقریرکرتے ہوئے کہاکہ دنیا ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہونےوالے مذاکرات میں پیشرفت پر خوش ہے- کیونکہ مذاکرات میں پیشرفت اور ایٹمی سمجھوتے کا علاقے، دنیا اور اسی طرح ترقی وپیشرفت، اقتصاد وثقافت ہرشعبےکو فائدہ پہنچے گا- انہوں نے کہا کہ اس سمھجوتے سےعلاقائي اور عالمی سطح پر انتہا پسندی کے خطرات اور مسائل ومشکلات کو بھی حل کرنے میں مدد ملے گي - اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اس درمیان صرف ایک حکومت جو اپنی بقا جنگ اور جارحیت میں ہی دیکھتی ہےان مذکرات سے چراغ پا اور ناراض ہے - صدرحسن روحانی نے کہا کہ غاصب صیہونی حکومت کو علاقے میں امن واستحکام سے ہمیشہ پریشانی اور تشویش لاحق رہتی ہے  کیونکہ آپ دیکھ رہے کہ صیہونی  حکومت انسانیت سوزجرائم کا ارتکاب کرنےوالے دہشت گرد گروہ جبہہ النصرہ کی بھرپور حمایت کررہی ہے - صدر روحانی نےامریکی کانگریس میں صہیونی حکومت کے وزیراعظم نتنیاہو کی تقریر کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بیانات کا قوموں اورحکومتوں کے عزم و ارادے پر کوئي اثر نہيں پڑے گا- انہوں نے کہا کہ دنیا کے ساتھ ہمارے مذاکرات کی بنیاد نیک نیتی کے مقابلے میں نیک نیتی، سچائي کے مقابلے میں سچائي، اطمینان کے مقابلے میں اطمینان اور اعتماد کے مقابلے میں اعتمار پر استوار ہے- صدر روحانی نے کہاکہ دنیااوراسی طرح امریکا کےعوام اس سے کہیں زیادہ عقلمند اور ہوشیارہیں کہ ایک حکومت جو ہمیشہ جنگ کی آگ بھڑکاتی ہے اب ان سےنصحیت کی زبان میں بات کرے - صدر روحانی نے کہا کہ وہ بھی ایک ایسی حکومت جس نے عالمی قوانین کے برخلاف اور بین الاقوامی مبصرین کی نگاہوں سے دور ایٹمی ہتھیاروں اورایٹم بموں کا گودام تیار کررکھا ہے- انہوں نے کہا مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ایران کے خلاف الزامات ایسی حکومت کی طرف سے لگائے جارہے ہيں جس نے اپنی تاريخ میں بارہا اور بارہا اپنے ہمسایہ ملکوں پر جارحیت کی ہے اور بے گناہ لوگوں کو خاک و خون میں غلطاں کیا ہے- انہوں نے کہا کہ یہ ایسی حکومت ہے جس نے غزہ میں معصوم بچوں کو بھاری ہتھیاروں کےگولوں سےنشانہ بنایا - صدر روحانی نے کہا کہ یہ حکومت جو خود سب سے زیادہ جرائم پیشہ اور دراصل ایک دہشت گرد حکومت ہے آج مستقبل کے امن و صلح اور خطرات کی بات کررہی ہے- صدر روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قراردئے جانے کا مطالبہ کیا ہے اور جولوگ علاقے اور دنیا کے لئےبہتر مستقبل چاہتے ہیں انہيں یہ جان لینا چاہئے کہ علاقے کی ترقی و پیشرفت اسی صورت میں ممکن ہوگي جب امن واستحکام قائم ہوگا- انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی معاملے کو مذاکرات کے علاوہ کسی اور طریقے سے حل نہيں کیا جاسکتا- انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہيں کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ممالک قوموں کے مفادات اور مشرق وسطی جیسے حساس علاقےکے امن واستحکام کومدنظر رکھتے ہوئے منطقی رویہ اپنائيں گے- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنے واشگاف لفظوں میں کہا کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ممالک اچھی طرح جانتے ہيں کہ ان کے پاس دوہی راستے ہیں  یا تووہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ عالمی قوانین کے دائرے میں ایک سمجھوتے تک پہنچيں  انہوں نے کہا کہ یہ کام جتنی جلد انجام پائے اتناہی زیادہ سب کے فائدے میں ہوگا یا پھر یہ ممالک  حقائق کا انکارکردیں تواس صورت میں انہيں مجبورا ایران کی تیز رفتار ایٹمی ترقی وپیشرفت کا نظارہ کرنا ہوگا- انہوں نے کہا کہ یہ دوسرا آپشن وہ ہے جس کا مشاہدہ سب کرچکے ہيں کہ پابندیوں اور دباؤ کا ایران پر کوئی اثر نہيں پڑا اور ہم نے اپنا راستہ اچھی طرح طے کیا ہے - صدر روحانی نے زور دے کرکہا کہ اگران مذاکرات کی بنیاد زیادہ سے زیادہ شفاف سازی پر ہو تو ہم اس کو قبول کرتے ہيں لیکن اگرمذاکرات میں ایران کے عوام کو ان کے ایٹمی حق سے محروم کرنے اور ان کی ایٹمی ترقی کو روکنے کی کوشش ہوگی تویہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ایران اس طرح کے کسی بھی سمجھوتے کو نہ تو قبول کرے گا اور نہ ہی اس کے دباؤ میں آئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲