جب امریکی سامراج کی طاقت فوجی میدان میں محدود ہو جاتی ہے تو اس کے بعد امریکی خارجی سیاست کے ہتھکنڈے بھی محدود ہو جاتے ہیں ۔
جب سے امریکہ نے فوجی طاقت کے اعتبار سے دنیا پر محسوس فوجی برتری حاصل کی ہے ،اس وقت سے واشنگٹن نے اپنے مفادات کی خاطر پوری دنیا کو ایک جنگ کے میدان میں تبدیل کرنے کی توانائی کے حصول کی چابی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے ۔
یہ دائمی جنگ ایک فرقہء مرگ کے عنوان سے ایک جیسی منطق سے بہرہ مند ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک جنگ کا دوسری جنگ کے آغاز میں واقعی معنی میں کردار رہا ہے۔
امریکہ کا صدر اوباما فوجی ڈیمانڈ اور سپلائی کے میدان کا ایک ماہر استاد ہے ۔اس کی اور اس کے یورپی اتحادیوں کی شاطرانہ چالیں ،جدید ترین ہتھیاروں سے دہشت گرد گروہوں کو مسلح کرنے میں ،یا ان کو مالی امداد فراہم کرنے میں ،لیبیا جیسے منظر ناموں میں مکمل طور پر قابل مشاہدہ ہیں (جس کا مقصد ایشیا اور افریقہ کو جنگ کے میدان میں تبدیل کرنا ہے )کہ ان منصوبہ بند اقدامات کے نتیجے میں ،عالمی انسانی حقوق کے حامی ملک یعنی امریکہ سے مداخلت کی درخواست کی جاتی ہے ۔
روئے زمین پر بد امنی پھیلانے اور جنگ کے جہنم کو وسعت دینے کے لیے یہ ایک شیطانی فارمولہ ہے ۔ کہ جس کی اتفاق سے ایک بالکل سادہ سی منطق ہے : چونکہ فوجی طاقت کےلحاظ سے ایک محسوس برتری کا مالک ہے ،تو واشنگٹن اس خصوصیت سے کہ جو اس کو حاصل ہے اپنے مفادات کے حصول کی خاطر پوری دنیا کو ایک جنگ کے میدان میں تبدیل کرنے کے لیے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے ۔
امریکی سامراج کے پاس اپنی نابودی سے بچنے کے لیے عالمی سطح پر جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔
دہشت گرد گروہ داعش کہ جو القاعدہ کی مانند سعودی عرب ، پاکستان اور امریکہ کے توسط سے افغانستان میں تربیت سے لیس ہوا ہے ،اس وقت اس نے لیبیا شام اور عراق کے کچھ حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس نے اپنے کالے اور سفید جھنڈے یمن کے جنوب اور پیرس کے آس پاس لہرا رکھے ہیں ۔
حالیہ ہفتے میں ہر سال کی طرح فرانس برطانیہ اٹلی اور دوسرے ساتھی یورپی ملک امریکہ کی افریقی کمان کے مرکز کے منصوبے میں شامل ہو گئے ہیں یہ وہ فوجی منصوبہ ہے کہ جس کو افریقہ کی فوج کے مکمل طور پر ہتھیار ٹریننگ اور مالی امور میں مغرب کے ساتھ وابستہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔
چاڈ کا ملک کہ جو واشنگٹن اور پیرس کا ساتھی ہے اس فوجی مشق کا نام نہاد میزبان ہے اگر چہ اس میں افریقی شرکت کرنے والے ،ساتھ دینے اور میزبانی کرنےکی سامراج کی اس پیش کش کو نہ نہیں کہہ سکے ۔
اس جنگی مشق کا منصوبہ کہ جس کا نام ، تفنگ سر پر چخماقی ہے ، بوکو حرام کے مقابلے میں علاقائی فوجی حملے کی انجام دہی کے لیے بنایا گیا ہے ۔ نائیجیریہ کے شمال کے انتہا پسند ،سال ۲۰۱۱ میں امریکہ اور نیٹو کی سیاست کے لیبیا اور بہار عربی کے دوسرے ملکوں کی جانب جھکاو کے بعد بہت سارے علاقوں پر قبضہ کر چکے ہیں ۔لیبیا کے ہتھیارصحرائے ساہارا کے راستے جنوبی علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے ساحل کے وسیع علاقے میں بد امنی پھیل گئی ہے (یہ علاقہ امریکہ کے لیے اہم علاقہ ہے )
امریکہ کی فوج نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس کا ارادہ ہے کہ پانچ ملکوں کی جدید ترین ترقی یافتہ ہتھیاروں سے مدد کرےکہ جس کا بڑا مقصد چاد کے تیل سے مالا مال سمندر کے اطراف میں بو کو حرام کا مقابلہ کرنا ہے ۔اور فرعی مقصد چاڈ ، نائجیریہ ، نیجر ،کامروں اور بنین کی فوج پر کنٹرول حاصل کرنا ہو سکتا ہے ۔
بو کو حرام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ افریقہ کے مغرب میں امریکہ کے فوجی تسلط کو مضبوط کرنے میں مفید رہا ہے (مغربی ایشیا میں داعش اور طالبان وغیرہ کی طرح )
امریکہ بوکو حرام کا مقابلہ کرنے کے لیے کامرون کو فوجی سازو سامان بھی بھیجتا ہے ۔
امریکی حکام کے دعوے کے مطابق ، امریکی فوجی امداد کی ایک کھیپ،دہشت گرد گروہ بوکو حرام کا مقابلہ کرنے کے لیے کامرون کے لیے بھیجی جا چکی ہے ۔یہ فوجی امداد ،نائجیریہ ،کامرون اور چاڈ میں بوکو حرام کی بغاوت کا مقابلہ کر نے کے لیے ،مرکزی افریقہ کے ملکوں کے لیے اقوام متحدہ کی امداد میں اضافہ کیے جانے کے منصوبے کا حصہ ہے (امریکی چال )
کامرون میں اقوام متحدہ کا سفیر مایکل ھوزا اس سلسلے میں کہتا ہے : اس فوجی امداد کا بھیجا جانا اس بات کی نشانی ہے کہ واشنگٹن دہشت گرد گروہ بوکو حرام کا مقابلہ کرنے کے لیے کامرون کی مدد کے وعدے کا پابند ہے ۔
ھوزا کا دعوی ہے کہ امریکہ نے کامرون کی درخواست پر اس کے فوجی مشاوروں اور سامان کو اس ملک میں بوکو حرام کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھیجا ہے ۔ (حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک اپنے ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی کو نہ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا )
کامرون چاڈ اور نائجیریہ تین اصلی ملک ہیں جن میں بوکو حرام نے قہر مچا رکھا ہے ۔
اسی دوران لیبیا میں جو دہشت گرد ہیں چاہے وہ داعش ہو یا القاعدہ ہو ان کے پاس بہت سارے ٹھکانے ہیں ،دہشت گردوں کا جماوڑا بنغازی کے مشرق کے نزدیک کے ایک شہر درنا میں ،امریکہ کے حملے بعد ہوا تھا ۔ جس وقت امرکہ اور نیٹو کی فوجوں نے سات ماہ کی بمباری کے بعد معمر قذافی کی طرفدار فوجوں کو نابود کر دیا تو سیکڑوں دہشت گردوں کو شام بھیجا گیا اس امید میں کہ یہی منظر شام میں بھی دہرایاجائے گا اور اس بار بشار اسد کی باری ہو گی !!
ان میں سے بہت سارے اب لیبیا واپس چلے گئے ہیں لیکن اس بار ان کے پاس داعش کے کالے اور سفید جھنڈے ہیں !!
مصر کے فوجی صدر عبد الفتاح السیسی نے کہ جو لیبیا کے تین طرف داروں میں سے ایک ہے ،مھاجر قبطی عیسائیوں کے قتل کرنے کے بعد اس نے درنا شہر میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے مصر کے جزیرہ نمائے سینا میں بعض باغیوں کے دہشت گردانہ اقدامات اس امر کا باعث بنے کہ السیسی نے امریکی اتحاد سے درخواست کی کہ وہ مصر کے مغربی سرحد کےعلاقوں کے داعش کے ٹھکانوں کو بمباری کی فہرست میں شامل کرے ۔ اور اس سلسلے میں فوجی مداخلت کرے ۔
انتہا پسندی واقعیت یہ ہے کہ امریکہ اور سامراجی غراض کے لیے ایک غنیمت موقعہ رہی ہے ۔ لیکن اس کا ظہور اور پھیلاو اتفاقی نہیں تھا ۔
امریکہ نے لیبیا میں انتہا پسندوں کو مضبوط کیا ہے ،اور یہی چیز جنوب میں بھی بد امنی کا باعث بنی ہے اور اپنی جگہ پر یہی چیز امریکہ اور افریقہ میں اس کے کمان کے مرکز کے بر اعظم افریقہ پر فوجی تسلط کے مضبوط ہونے کا باعث بنی ہے ۔
کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے وزیر دفاع نے امریکہ کی صنعت کے رہنماوں کو نصیحت کرتے ہوئے اظہار کیا : امریکہ کی فنی فوجی برتری کو دوسرے ملکوں منجملہ چین اور روس نے مشکل میں ڈال دیا ہے ۔چنانچہ امریکہ کے تسلط کو قائم رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو بڑھانے اور اس کی خریداری کے عمل کے میدان میں قدم رکھنا پڑے گا ۔
چاک ھیگل بڑی بے شرمی کے ساتھ اس موضوع کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو تباہ کن ہتھیار مل گئے ہیں (حالانکہ کچھ عرصہ پہلے امریکہ نے ہوائی راستے سے داعش کے لیے ہتھیار بھیجے تھے )اور ہمارے رقیب ماسکو اور چین اپنی مسلح افواج کی جدید کاری منجملہ الیکٹرانیک جنگ اورخاص کاروائیوں کی طاقت کو بڑھانے میں مصروف ہیں ۔
اگر امریکہ اس مشکل پر سنجیدگی سے غور نہیں کرے گا تو ایڈوانس ٹیکنیک اور جدید ہتھیاروں کے مقابلے میں میدان جنگ میں امریکی فوجوں کی جان خطرے میں ہو گی (وہ گروہ کہ جن کی خود انہوں نے تربیت اور تقویت کی ہے )
ہم ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں کہ جس میں سمندروں ،فضاوں پر امریکہ کا تسلط سایبر کی فضا کی جانب اشارہ کیے بغیر ،مشکل سے دوچار ہو گا ۔اپنی ٹیکنیکی برتری کو بچائے رکھنے کے لیے واشنگٹن کو اور پینٹاگون کو ،بجٹ میں کمی ہونے کی صورت میں عاقلانہ طور پر جدید اور پیچیدہ تجارتی ٹیکنک جیسے تھری ڈی اور روباٹیک میں سرمایہ لگانے کی ضرورت ہے ،ہمیں اس مشکل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ہماری فوجی برتری کو قائم رکھنے کے لیے جو کام بھی ضروری ہے اسے انجام دینا چاہیے ۔
شام کی حکومت کے خلاف امریکہ کی رہبری میں نیابتی جنگ اور داعش کا مقابلہ بھی جنگ زدہ عراق کے میدان میں نئے سرے سے کودنے کے لیے تھا۔ شام میں فوجی مداخلت کا بہانہ اور حال حاضر میں لیبیا میں دوبارہ مداخلت کرنے کا موقعہ تلاش کرنا اس بہانے سے کہ اس کا مقصد ان دہشت گرد گروہوں سے نجات دلانا ہےکہ ایک زمانے میں یعنی چار سال پہلے امریکہ نے جن کو مسلح کرنے کے لیے بے انتہا مالی امداد فراہم کی تھی ۔
داعش اور اسی طرح بوکو حرام امریکہ اور اس کی جنگی حکمت عملی کے لیے بہت اچھا بہانہ رہے ہیں ،یہاں تک کہ اوباما نے کانگریس سے کہا ہے کہ اسےدہشت گردی کے خلاف نئے سرے سے جنگ کو شروع کرنے کے لیے تین سال کا وقت چاہیے ۔جارج بش کی طرح اوباما اس بات کے لیے تیار نہیں ہوا کہ وہ اپنی صلیبی جنگ کے دائرے میں داعش اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جغرافیائی محدودیت کو تسلیم کرے ۔
دنیا اوباما کی جنگ کی آگ کی زندہ شطرنج ہے ، وہ مہروں کو اپنی مرضی سے استعمال کر سکتا ہے اور اس سے متعلق قوانین بنا سکتا ہے ۔ روابط کو ملتوں اور ملکوں کے درمیان فوج کی طرز پر استوار کرنے کے لیے ہر ضروری کاروائی انتہائی مہارت کے ساتھ کی جا چکی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی پہلو امریکہ کا مضبوط ترین پہلو ہے ،یا دوسرے لفظوں میں اس کی تنہا خصوصیت یا اس کا تنہا پہلو امریکہ کے مفادات کی فراہمی اور ان کی حفاظت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲