28 فروری 2015 - 16:12
یمنی عوام انصار اللہ تحریک کے حامی

یمن کے امور میں غیر ملکی مداخلت میں اضافےکے پیش نظر یمن کے عوام نے دارالحکومت صنعا اور شمالی شہر صعدہ میں وسیع پیمانے پر مظاہرے کرکے اغیار کی مداخلت کی مذمت کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سحرعالمی نیٹ ورک کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں یمنی شہریوں نے دارالحکومت صنعا اور شمالی شہر صعدہ میں عوامی تحریک انصار اللہ کی جانب سے جاری کیے گئے آئینی اعلامیے کی حمایت کرتے ہوئے غیرملکی مداخلت کی جو یمن کے عوامی انقلاب کے مقاصد کے پورا ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے،مظاہرے کئے۔ صنعا میں ہوئے مظاہرے میں تحریک انصار اللہ سے وابستہ اعلی انقلابی کمیٹی کے رکن خالد مدانی نے کہا کہ یمن کے عوام نےآئینی اعلامیے اور اعلی انقلابی کمیٹی کے فیصلوں کی حمایت میں جلوس نکالے ہیں اور امریکہ اور سعودی عرب کی حکومتوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یمن کے عوام اغیار کے تسلط کو قبول نہيں کرتے۔ یمن کے معروف اہل قلم اور صحافی حسن الوریث نے بھی صنعا اور صعدہ میں بڑے عوامی مظاہروں کے بارے میں کہا کہ یمن کے عوام اور انقلابیوں کا سیاسی قوتوں کے نام پیغام یہ ہے کہ وہ عوام کے ساتھ ہوجائيں اور غیروں کی غلامی ختم کريں۔ یمن کے شمالی شہر صعدہ میں بھی ملک کے داخلی امور میں غیرملکی مداخلت کی مذمت میں وسیع پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں میں شرکت کرنے والوں نے اعلی انقلابی کمیٹی کی طرف سےپیش کیے جانے والے آئینی اعلامیے کی حمایت پر زور دیا- مظاہرین نے اپنے ملک کے داخلی امور میں امریکہ اور خلیج فارس کے عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب کی مداخلت کی سخت مذمت کی۔ واضح رہے کہ یمن کے عوامی انقلاب کو اس کے راستے سے ہٹانے کے لیے غیرملکی سازش کے خلاف عوامی مظاہروں کے موقع پر صعدہ کی قبائلی کونسل نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی اب قانونی طور پر صدر نہیں ہیں۔ اس کونسل نے اسی طرح دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں القاعدہ سے وابستہ جماعت اصلاح پارٹی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا- یمن حالیہ مہینوں کے دوران سیاسی و سیکورٹی کے بحرانوں کا شکار رہا ہے اور منصور ہادی نے جنوری میں عوام کی طرف سے وسیع پیمانے پر احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا اور اس وقت وہ یمن کے جنوبی شہر عدن میں موجود ہیں جہاں وہ غیرملکی منصوبے کے تحت سیاسی اقدامات انجام دے رہے ہیں- صنعا میں عوامی تحریک انصار اللہ کے کردار اورمقبولیت میں اضافہ ہونے اور حکومتی اداروں کو تقسیم ہونے سے بچانے کے سلسلے میں اس تحریک کے مؤثر اقدامات کے بعد یمن میں عوامی انقلاب کو کمزور کرنے کے لیے بعض ملکوں نے صنعا میں اپنے سفارت خانے بند کر دیےہیں۔ اس کے ساتھ ہی منصور ہادی سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک کی حمایت سے جنوبی شہر عدن چلے گئے اور وہ وہاں سے عوام اور انقلاب مخالف اپنے اقدامات انجام دے رہے ہیں- یمن کے مستعفی صدر کی جنوبی یمن کے علاقےکے بعض عہدیداروں اور خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل سمیت بعض عرب حکام سے ملاقاتوں اور سعودی عرب، قطر اور کویت کے سفارت خانوں کی صنعا سے عدن منتقلی کو منصور ہادی کی اقتدار میں دوبارہ واپسی یا یمن کی تقسیم کے لیے کی جانے والی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲