28 فروری 2015 - 05:06

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونسکو نے داعش دہشتگردوں کے ہاتھوں عراق کے تاریخی آثار کی تباہی کی وسعت کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق یونیسکو کی سربراہ "ایرینا بوکووا" نے کہا ہے کہ عراق کے شمالی شہرموصل میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے ہاتھوں تاريخی عمارتوں اور آثار کی تباہی تہذیبی لحاظ سے بھیانک المیہ ہے۔ بوکوا نے کہا کہ تاریخی آثار کی ویرانی سکیورٹی پہلو کی بھی حامل ہے اور اس سے عراق میں فرقہ واریت، تشدد، انتھا پسندی اور اختلافات میں شدت آئي ہے۔ یونیسکو کی ڈائرکٹر جنرل نے کہا کہ انہوں نے عراق کے تاریخی آثار کی حفاظت کے لئے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لئے اس کونسل کے سربراہ سے رابطہ کیا ہے۔ بوکوا نے کہا کہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اس گروہ کے عناصر کو شہر موصل کے میوزیم میں ہزاروں برس پرانے مجسمے اور تاریخی آثار تباہ کرتے ہوئے دکھايا گیا ہے۔ ادھر اسپین کے اخبار الپائس نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کا مقصد عرب ملکوں کے تہذیبی تشخص کو تباہ کرنا ہے۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ داعش کے اقدام عرب ملکوں کی تہذیب و ثقافت اور ثقافتی شناخت مٹانے کی غرض سے جاری ہیں اور یہ سازش عراق سے شروع ہوئي ہے۔ واضح رہے تکفیری دہشتگرد گروہ نے گذشتہ برس جون میں عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کرکے ملت عراق کے خلاف نہایت ہی انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور عراق وشام میں تاریخی، قدیمی اور ثقافتی آثار تباہ کردئے ہیں۔

.......

/169