اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق برطانوی ہاؤس آف لارڈز کی رکن "ایما نیکلسن" نے نجف میں مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید محمد سعید حکیم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں آیت اللہ سعید حکیم نے نظریاتی دہشتگردی کا مقابلہ کئےجانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور انتھا پسندی کے پھیلنے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ عالمی برادری نے اس کا مقابلہ نہيں کیا ہے۔ آیت اللہ سعید حکیم نے کہا کہ دہشتگردی کا آغاز پہلے افغانستان اور شیعہ مسلمانوں کے قتل عام سے ہوا اور اسکے بعد عراق اور سارے علاقے میں پھیلتا چلا گيا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی آگ یورپ اور ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گي۔ عراق کے اس بزرگ عالم دین نے کہا کہ دہشتگردی کے مقابل بعض حکومتوں کی متضاد پالیسیوں سے دہشتگردی کو علاقے میں بڑھاوا ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک تکفیریوں کے خلاف نعرے لگاتے ہیں لیکن خفیہ طریقے سے ان کی حمایت اور دہشتگردوں کو علاقے میں بھیجنے کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ آیت اللہ سید محمد سعید حکیم نے کہا کہ دہشتگردی کی خاتمے کے لئے انتھا پسندا نہ فکر اور تشدد کے جڑ کی شناخت اور اس کے حامیوں کو پہچان کر ان سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے عراق میں جاری دہشتگردوں کا تعلق تکفیری نظریات سے ہے کہ جنہيں شیعہ سنی اختلافات پھیلا کر ملت عراق کو کمزور بنانے کی غرض سے وجود بخشا گيا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ تکیفیری دہشتگردی کا بیج امریکی سی آئي اے نے بویا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲