اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تشخیص مصلحت نظام کونسل کے اسٹریٹجک تحقیقاتی مرکز کے سربراہ ڈاکٹرعلی اکبر ولایتی نے سنیچر کو تہران میں نامہ نگاروں سے گفتگوکے دوران ایٹمی مذاکرات روکنے پرمبنی امریکی وزیرخارجہ کی تازہ دھمکی کےبارے میں کہا کہ ایران ایٹمی مذاکرات میں امریکی فیصلے کا منتظر نہیں ہے کیونکہ امریکیوں نے مذاکرات کی خواہش خود ظاہر کی تھی اور انھیں ان مذاکرات کی ضرورت ہے-
علی اکبرولایتی نے امریکیوں کے اس غلط خیال کومسترد کردیا کہ مذاکرات کرنا ایران کے لیے ایک امتیاز ہے-
ڈاکٹرولایتی نے کہا البتہ ایران شروع دن سے مذاکرات کے لئے تیار تھا اوراس نے کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہيں کیا- انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی صورت میں اپنے ایٹمی حقوق سے دستبردار نہین ہو گا ڈاکٹر ولایتی کا کہنا تھا کہ ایران پراپنے مفادات اورمطالبات مسلط کرنے کا امریکہ کا مقصد ہرگز پورا نہیں ہوگا-
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ اگر امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے نفسیاتی اور تشہیراتی جنگ کرنا ہے تو وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ ایران کو اسلامی انقلاب کی ابتدا سے اب تک کھوکھلی دھمکیاں سننے کی عادت ہو چکی ہے-
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران آزادی و خودمختاری، عوامی حمایت، رہبر انقلاب اسلامی کی رہنمائیوں اور اسی طرح حکومت اور مذاکراتی ٹیم کی استقامت و پامردی کی بدولت امریکی دھمکیوں کے سامنے گھٹنے نہيں ٹیکے گا-
واضح رہے کہ جنیوا روانہ ہونے سے قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ اگرمارچ کے آخرتک کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو مذاکرات روک دئے جائيں گے-
دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی مبہم یانا مکمل سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا.
.......
/169