اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ شہدا کمیٹی سے 22 مطالبات پر مذاکرات ہوئے، شکارپور میں ایپکس کمیٹی کی نگرانی میں پولیس اور رینجرز کے آپریشن اور سرکاری املاک پر مذہبی جماعتوں کے قبضے ختم کرانے کے مطالبات بھی مان لیے ہیں۔ اس موقع پر شکار پور سے کراچی تک لانگ مارچ کے شرکا کے قائد علامہ مقصود علی ڈومکی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت سے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، حکومت سے کل ہمارے تفصیلی مذاکرات ہوں گے، مذاکرات کامیاب بنانے میں وزیراعلیٰ نے کوششیں کیں، ہمیں پوری امید ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی، انہوں نے کہا ہماری تحریک دہشتگردی اور مذہبی تفریق کےخلاف ہے- ان کا کہنا تھا کہ ہم سندھ حکومت کےخلاف تحریک نہیں چلا رہے۔ علامہ مقصود ڈومکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہدا کمیٹی میں 14 افراد ہیں جن میں لواحقین بھی شامل ہیں،جبکہ شکارپور میں بھی ایک کمیٹی بنائی جائیگی جو کارروائیوں کا جائزہ لے گی انہوں نے کہا کہ کمیٹی دیکھے کہ دہشتگرد کس تنظیم یا مدرسے سے ہے۔ اس موقع پروزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے دہشت گردوں کے خلاف موثر قدم اٹھانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ میری گزارش تھی کہ معاملات حل ہوجائیں، بات چیت سے مسائل کا حل نکلتا ہے،حکومت کی ذمے داری ہے مطالبے پورے کیے جائیں، وزیر اعلیٰ نے سانحہ شکار پور کےشہدا کے لواحقین کیلئے 20،20 لاکھ روپےدینے کا اعلان کیا- واضح رہے کہ شہدائے شکار پور کے بچے اور ورثا نيز مقامی عمائدین پر مشتمل سیکڑوں افراد پر مشتمل ایک کاروان شکار پور سے لاںگ مارچ کی شکل میں کراچی پہنچا تھا اور اپنے مطالبات منوانے کے عزم کے ساتھ نمائش چورنگي گزشتہ روز سے دھرنے پر بیٹھا تھا-
.......
/169