19 فروری 2015 - 11:46
داعش کے زیر کنٹرول علاقے میں امریکی ہیلی کاپٹروں کی لینڈنگ

عراق کے صوبہ بابل میں داعش کے زیر کنٹرول علاقے میں دو امریکی ہیلی کاپٹروں کے اترنے سے متعلق خبر نے داعش مخالف اتحاد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراقی حکام، بارہا امریکہ اور اتحادی فوجیوں پر دہشتگردوں کو اسلحے کی فراہمی اور ان کے لئے اسلحہ اور جنگی ساز وسامان گرانے کا الزام عا‏ئد کرچکے ہیں- اگرچہ اس سلسلے میں پوری تفصیلات ابھی سامنے نہيں آئي ہیں لیکن عراقی ذرائع ابلاغ کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹروں کی لینڈنگ کی خبروں کی اشاعت اور اس موضوع کو اہمیت دیئے جانے کی وجہ، داعش کے لئے امریکی امداد سے متعلق میں اس سے قبل آنے والی رپورٹیں ہوسکتی ہیں- سومریہ نیوز ایجنسی نے بابل آپریشنل کمانڈ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بدھ کو اس صوبے کے شمالی علاقے میں دو امریکی آپاچی ہیلی کاپٹروں نے لینڈنگ کی - یہ امریکی ہیلی کاپٹر بابل سے ساٹھ کلومیٹر دور مویلحہ کے علاقے میں اترے ہیں- یہ ایسے عالم میں ہے کہ نٹ نیوز نے بابل کی صوبائی کونسل میں شمالی علاقوں کی سیکورٹی کمیٹی کے سربراہ ثامرذیبان کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ابھی تک ان ہیلی کاپٹروں کے اترنے کی وجہ معلوم نہيں ہوئي ہے اور اس موضوع کا جائزہ لیا جارہا ہے- نیٹ نیوز نے مزید لکھا ہے کہ عراق بالخصوص فوجی علاقوں ميں تعینات امریکی فوجیوں پر داعش دہشتگردوں کے لئے فضا سے ہتھیار اور جنگی ساز وسامان گرانے کا الزام ہے- بدنام زمانہ دہشت گرد گروہ داعش کی تشکیل میں امریکہ، برطانیہ اور علاقے کے بعض عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی ملکوں کا ہاتھ ہے تاہم اس گروہ کے ہولناک دہشتگردانہ جرائم سامنے آنے کے بعد انہی ممالک کی جانب سے داعش کے مقابلے کے لئے عالمی اتحاد کی تشکیل کے دعوے کئے جارہے ہيں- اس دوران داعش مخالف نام نہاد اتحاد کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر جو ہوائی حملے کئے گئے ہیں وہ بالکل غیر موثر ثابت ہوئے ہيں جبکہ عراق اور شام دونوں ملکوں میں سرگرم دہشت گردوں کے لئے بارہا ہوائي جہازوں کے ذریعے اسلحے اور گولہ باررود کی پیٹیاں گرائے جانے کی خبریں سامنے آچکی ہيں اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور اردن ميں امریکا کی نگرانی میں چلنے والے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ ایک دن کے لئے بھی بند نہیں ہوئے ہیں-

.......

/169