اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ کے باہر زوردار دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز میلوں دور تک سنی گئی، دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور وہاں کھڑی کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جبکہ متعدد موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو شامیانے لگا کر بند کر دیا ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ دھماکے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ ریسکیو ذرائع نے 8 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب دھماکے کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر بھی قابو پالیا گیا ہے۔ پولیس نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی سخت کر دی ہے اور پولیس لائنز کے اطراف سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
دیگر ذرائع کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس لائنز کے قریب دھماکہ ہوا ہے، جس میں 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
پولیس لائنز لاہور کے علاقے قلعہ گجر سنگھ میں واقع ہے، قلعہ گجر سنگھ شہر کا گنجان آباد علاقہ ہے۔
دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے جبکہ امداد ٹیمیں مذکورہ مقام پر روانہ ہوگئیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ اس میں متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
جاں بحق ہونیوالوں اور زخمیوں کو میؤ اور گنگا رام اسپتال منتقل کیا گیا۔
گنگارام اسپتال کے حکام کا کہنا تھا کہ اسپتال میں 4 افراد کی لاشیں لائی گئیں،
میؤ اسپتال میں 5 افراد کی لاشیں منقتل کی گئیں۔
دھماکے کے حوالے سے سی سی پی او لاہور امین وینس کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر یہ خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایک شخص کا سر ملا ہے ممکنہ طور پر یہ اسی حملہ آور کا سر ہے۔
امین وینس نے مزید کہا کہ کہ خودکش حملہ آور سول لائنز میں داخل ہونا چاہتا تھا مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
دھماکے کے بعد کئی گاڑیوں نے آگ پکڑ لی جبکہ کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، وہاں موجود اکثر موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہوگئیں۔
جس مقام پر دھماکہ ہوا اس کے قریب واقع 8 کے قریب دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔
واضح رہے کہ اس مقام سے پنجاب اسمبلی، لاہور پریس کلب، ریلوے اسٹیشن اور دیگر اہم مقامات بھی قریب ہیں۔
واقعے کے فوری بعد پولیس نے جائے وقوعہ کی جانب تمام راستوں کو عام افراد کی آمد و رفت کے لئے بند کر دیا اور اطراف کی عمارتوں پر ایلیٹ فورس کے اہلکار تعینات کر دیئے گئے
ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ریسکیو عملہ دھماکے کی جگہ سے شواہد جمع کیں۔
وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں سول لائنز دھماکے کی مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے پنجاب حکومت سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔
نواز شریف نے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کیا۔
قبل ازیں 4 ماہ پہلے لاہور میں واہگہ بارڈر پر بھی ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں 60 افراد شہید ہوئے تھے۔
.......
/169