16 فروری 2015 - 12:35
ساںحہ شکارپور کا ماسٹر مائنڈ عثمان، آئی ایس آئی کے ہاتھوں واصل جہنم

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فورسز نے سرچ آپریشن کےدوران فائرنگ کے تبادلے میں سانحہ شکارپور کا ماسٹرمائنڈ اور کوئٹہ کی شیعہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ میں مطلوب کالعدم سپاہ صحابہ کا اہم کمانڈر عثمان عرف سیف اللہ ساتھی سمیت مارا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق  پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک سرچ آپریشن کے دوران کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی کے اہم کمانڈر عثمان عرف سیف اللہ کرد سمیت دو دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے سریاب میں گاہی خان چوک کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا۔ سکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق اس علاقے میں دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک مکان میں موجودگی کی اطلاع تھی۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اس آپریشن میں عثمان عرف سیف اللہ ہلاک ہوگیا ہے۔ بدنام زمانہ دہشتگرد عثمان سیف اللہ کرد پر بلوچستان میں شیعہ ہزارہ مسلمانوں کے قتل عام کیوجہ سے اقدام قتل کے درجنوں مقدمات درج تھے۔ سکیورٹی ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ سانحہ شکارپور کا ماسٹر مائنڈ بھی یہی دہشتگرد تھا۔ دہشتگرد عثمان کو پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اسے 2008ء میں کوئٹہ کی اے ٹی ایف جیل سے پراسرار طور پر فرار کروا دیا گیا۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے اس کے سر کی قیمت پچیس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ سرچ آپریشن کے دوران مکان میں موجود مسلح افراد اور فورسز کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں لشکر جھنگوی کے دو دہشتگرد ہلاک ہوگئے، جبکہ دو گرفتار ہوئے۔ اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے تین اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں کالعدم مذہبی تنظیم کا سرغنہ عثمان سیف اللہ ساتھی سمیت مارا گیا جبکہ ایک ٹارگٹ کلر گرفتار کرلیا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار بھی شہید ہوا۔ حساس ادارے اور ایف سی کی جانب سے مستونگ روڈ پر کارروائی کی گئی، کالعدم مذہبی تنظیم کے سربراہ عثمان سیف اللہ کرد اور اسکے ساتھی ایک ہوٹل میں موجود تھے، ہوٹل کو گھیرے میں لیا گیا تو ملزمان نے فورسز پر فائرنگ شروع کر دی، جوابی فائرنگ میں عثمان سیف اللہ ساتھی سمیت مارا گیا، ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کیلئے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا جبکہ ملزمان کی لاشیں سول اسپتال منتقل کر دی گئیں۔ عثمان سیف اللہ 2008ء میں اے ٹی ایف سب جیل توڑ کر فرار ہوا، خودکش حملوں سمیت ٹارگٹ کلنگ اور سنگین نوعیت کے واقعات کا ماسٹر مائنڈ ہے، وہ 14 تھانوں میں انسداد دہشتگردی، بم دھماکوں، قتل، اقدام قتل سمیت 17 مقدمات میں مطلوب تھا، حکو مت بلوچستان نے اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کی تھی۔

.......

/169