اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بشار اسد نے کہا کہ داعش کے خلاف بنے اتحاد کے بیشتر ممالک دہشت گردی کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان ممالک کے ساتھ اتحاد نہیں کر سکتے۔ بشار اسد نے زور دے کر کہا کہ القاعدہ سے وابستہ داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے نظریہ کا اہم ذریعہ سعودی عرب کا حکمراں خاندان ہے جو ان گروہوں کی کھل کر حمایت کرتا ہے۔
شام کے صدر نے کہا کہ ہر جنگ بری ہے کیونکہ اس میں عوام مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ایسی جنگ کا ذکر نہیں پاتے جس میں کوئی ہلاک نہ ہوا ہو۔
بشار اسد نے اس سوال کے جواب میں کہ شام کی حکومت پر اعتدال پسند مخالفین کو ختم کرنے کا الزام ہے، کہا کہ باراک اوباما نے چند ماہ قبل اس سوال کے جواب میں کہا تھا کہ شام میں ان افراد پر اعتماد کرنا بے سود ہے جو خود کو لبرل مخالف کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعوی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
شام کے صدر نے مغربی اور کچھ عرب ممالک کی جانب سے اعتدال پسند شامی حکومت کے مخالفین كے گروہ قائم کرنے کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ شام میں داعش، جبہۃ النصرہ، القاعدہ اور اسی قسم کے دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی بات کہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دہشت گرد گروہ خود تو وجود میں نہیں آ گئے۔ یقینا ان کو کوئی وجود میں لایا ہے۔
بشار اسد نے بی بی سی کو دیے اپنے انٹرویو میں کہا کہ شام نے بحران شروع ہونے کے وقت سے ہی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد شروع کر دیا تھا۔





.......
/169