11 فروری 2015 - 10:46
امریکی صدر کی ایران کے خلاف بیان بازیاں، داخلی رائے عامہ حاصل کرنے کی غرض سے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مختلف مسائل کے بارے میں امریکی صدر کے ایران مخالف بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نےایران کے ایٹمی معاملے پر امریکی صدر باراک اوباما کے حالیہ بیان کے بارے میں کہا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کے پیش نظر تعمیری تعاون کے جذبے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آیا تاکہ ناجائز طور پر کھڑے کئے گئے اس بحران کو ختم کر سکے- انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس غلط استدلال کی بار بار تکرار کہ غیرقانونی اور ظالمانہ پابندیوں کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران مذاکرات کی میز پر آیا ہے، امریکہ میں داخلی رائے عامہ کی توجہ حاصل کرنے اور سیاسی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہے- ترجمان وزارت خارجہ مرضیہ افخم نے کہا کہ آج ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں میں قابل توجہ ترقی و پیشرفت سمیت تمام شعبوں میں ایران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی کی ناکامی سب پر واضح ہو چکی ہے اور تہران کی نظر میں اسی وجہ سے امریکہ مذاکرات کی میز پر آیا ہے-
ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایٹمی معاہدے کے حصول کے لیے سیاسی عزم و ارادے کے بارے میں کہا کہ ایک ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی متعدد رپورٹوں میں اس بات کی گواہی دی گئي ہے کہ ایران نے جنیوا عبوری سمجھوتے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اچھے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایرانی حکام میں مضبوط سیاسی عزم و ارادہ پایا جاتاہے- انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب امریکی فریق کو اپنی زیادہ طلبی اور توسیع پسندی کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا اور اپنے داخلی مسائل پر قابو پا کر اسے حتمی فیصلہ کرنا اور ایک جامع معاہدے کے حصول کے لیے راستہ ہموار کرنا ہو گا-
وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم  نے اسی طرح ایران کے داخلی مسائل اور حکومت اور عوام کے تعلقات کے بارے میں امریکی صدر کے بیان پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ امریکی حکام اس قسم کے غیر حقیقی اور تکراری بیانات دینے کے بجائے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر اب تک تمام مواقع پر اور انتخابات میں ایرانی عوام کی بھرپور شرکت کا ایک مرتبہ جائزہ لے لیں- انہوں نے مزید کہا کہ قومی اتحاد و یکجہتی کے عنوان سے اسلامی انقلاب کی چھتیسویں سالگرہ کے موقع پر گيارہ فروری کی ریلیوں میں ایرانی عوام کی وسیع  پیمانے پر بھرپور شرکت امریکی صدر کے حالیہ بیان کا واضح اور روشن جواب ہے جو ان کے استدلال کی کمزوری کو نمایاں کر دے گا-
ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے امریکی صدر کے بیان میں ایران کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت کے دعوے کو بھی بےبنیاد اور تکراری قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود صیہونی حکومت کا حامی ہے اور دہشت گردانہ اقدامات کو ہوا دیتا ہے  انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کو بنانے میں بھی امریکا کا اہم کردار ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲