اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سلفی وہابی دہشت گرد تنظیم داعش " نام نہاد دولتِ اسلامیہ عراق و شام " نے شمالی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط مضبوط کرلیے ہیں جس کے تحت اس دہشت گرد گروہ نے ایسے مقامی دہشت گرد گروہوں کو اپنے دائرے میں قبول کیا ہے جو اس سے وفاداری کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔داعش دہشت گرد تنظیم کے رہنما ابوبکر البغدادی نے جب مصر، لیبیا، الجزائر، یمن اور سعودی عرب میں موجود دہشت گردوں کی حمایت کو قبول کیا تو یہ اس گروہ کے پھیلاؤ کی ابتدا تھی۔ ان میں سے کچھ گروہوں نے اپنے نام تبدیل کر کے اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ کے نئے صوبے یا ولایہ قرار دیا جیسا کہ مصر کے انصار بیت المقدس اور الجزائر کے جند الخلیفہ ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور ہونے والی شاخیں لیبیا اور مصر میں قائم ہیں۔ دولتِ اسلامیہ کی مصر، سینا صوبے میں شاخیں حقیقتاً اپنے نام بدلنے کا نمونہ ہیں جیسا کہ انصار بیت المقدس جو پہلے 2011 میں مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے نتیجے میں سامنے آئی۔سینا میں موجود دہشت گرد گروہ بغدادی کے ساتھ الحاق کرنے والوں میں سب سے زیادہ مستحکم گروہ ہے اور اس نے نومبر میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ الحاق کے بعد سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔داعش دہشت گردوں نے لیبیا میں تین صوبوں کے قیام کا اعلان کیا جن میں برقہ مشرق میں، طرابلس مغرب میں اور فزان جنوب میں ہے۔ الجزائر میں داعش کی شاخ جند الخلیفہ ہے جسے نومبر 2015 میں دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کے عہد سے پہلے جند الخلیفہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سعودی عرب کے ملاؤں ، پاکستانی طالبان، افغانی طالبان کی بڑی تعداد داعش دہشت گردوں کے ساتھ ہے۔ لیکن داعش دہشت گردوں کو اس وقت عراق اور شام میں زبردست شکست اور ناکامی کا سامنا ہے داعش دہشت گردوں کے اہم کمانڈر عراق اور شام میں ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔ داعش سلفی وہابی عقیدہ پر مبنی ایک دہشت گرد گروہ ہے جس کی ابتداء میں امریکہ، سعودی عرب، قطر، اسرائيل اور ترکی نے بہت بڑی مدد کی اور انھیں ترکی کے راستے شام میں داخل کیا گیا لیکن اب داعش دہشت گرد تنظیم کے اصلی حامی یعنی امریکہ اور سعودی عرب اس کا ساتھ بظاہر چھوڑنے پر مجبور ہیں لیکن اسرائيل، ترکی اور قطر آج بھی داعش دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔
اب تو سعودی عرب کے سب سے بڑے مفتی آل شیخ نے بھی داعش دہشت گردوں کو گمراہ اور کافر قراردیدیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ داعش دہشت گرد سلفی وہابی عقیدے سے وابستہ ہیں جو ایک منحرف عقیدہ ہے۔ لہذا مسلمانوں کو چاہیے وہ اس دور کے داعش شیاطین سے خود کو اور اپنے اہل و عیال کو بچائیں جو اسلام کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
.......
/169