اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں قومی ایکشن پلان کے تحت کام کا باقاعدہ آغاز نرالے انداز میں ہو چکا ہے۔ نگران وزیراعلٰی شیر جہان میر کی زیرصدارت بند کمرے میں ایپکس کمیٹی گلگت بلتستان کا اعلٰی سطحی اہم اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ و کمشنر گلگت سبطین احمد کی تفصیلی بریفنگ ہوئی اور اہم فیصلے بھی کئے گئے۔ اجلاس میں کسی بھی مذہبی شخص اور علماء کا ملک کے دیگر شہروں سے گلگت بلتستان میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر کے گلگت بلتستان کو پاکستانیوں کے لیے نو گو ایریا بنایا گیا۔ اس کے علاوہ نفرت آمیز بیانات کے مرتکب افراد کیخلاف فوری ایف آئی آر درج کر کے فی الفور گرفتاری کا حکم دیا گیا۔ کالعدم تنظیموں کے عہدیداران کی مکمل فہرست مرتب کرنے اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کے شیڈول نمبر چار پر ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اجلاس میں کسی بھی مذہبی و سیاسی یا دیگر تنظیموں کی جانب سے عوامی مقامات پر سرعام چندہ جمع کرنے پرمکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اشتعال انگیزی پھیلانے والوں، اشتعال انگیز لٹریچر اور انکے مصنف اور خریدوفروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اجلاس میں اشتہاری مجرموں کے خلاف ایک مربوط اور جامع آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قراقرم ہائی وے کے وہ مقامات جہاں موبائل سگنلز نہیں آتے ہیں وہاں فوری طور پر موبائل فون ٹاورز نصب کرنے کیلئے اقدامات کا آغاز کرنے کا بھی حکم دیدیا گیا۔ اعلٰی سطحی اجلاس میں خطے میں موجود افغان باشندوں کو فوری طور پر افغان کیمپس بدر کرنے کا حکم اور وہ افغان باشندے جن کے پاس نادرا سے جاری قومی شناختی کارڈ موجود ہیں ان کو بھی افغان کیمپس بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دریں اثناء پولیس اور مجسٹریٹ کے علاوہ تمام گاڑیوں سے (سرکاری و پرائیویٹ) نیلی بتیاں ہٹانے اور فوری طور پر تمام گاڑیوں سے کالے شیشے اتروانے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر کہا گیا کہ فوجی عدالتوں کا قیام جلد عمل میں لایا جائیگا۔ ضلع میں موجود منی چینجرز کی مانیٹرنگ کرنے کا بھی حکم دیدیا گیا۔ فیصلوں کے مطابق گلگت بلتستان میں موجود تمام مدارس کا ڈیٹا اکھٹا کرنے، رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ مدارس کی چھان بین بھی ہوگی۔
اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ علاقے میں قیام امن کیلئے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ گلگت بلتستان میں نشر ہونے والے ممنوع ٹیلی ویژن چینلز جن پر پہلے سے پابندی عائد ہے ان کے چلانے کے خلاف پیمرا کو خط لکھا گیا ہے کہ اسکی مکمل طور پر مانیٹرنگ کی جائے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پولیس کو ضرورت پڑنے پر انسداد دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے خصوصی تربیت ایف سی این اے کے تحت دی جائے گی۔ اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے ان تمام فیصلوں پر عملدر آمد کرانے کے لئے سول انتظامیہ، فوج اور تمام سکیورٹی ادارے مکمل ہم آہنگی اور بھرپور تعاؤن کے ساتھ کام کا آغاز کریں گے۔
.......
/169