اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی شہزادے سعود بن سیف النصر نےاپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کے سابق بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اربوں ڈالرخرچ کر کے مصر میں بغاوت کی حمایت کی اور اس بغاوت کی حمایت کے لئے سعودی عرب کی دولت کو ضائع کیا- سعود بن سیف النصر نے شاہ عبداللہ کے دربار کے منتظم اعلی خالد التویجری پر سعودی عرب کی جانب سے مصر کو دی جانے والی بیس ارب ڈالر کی رقم کو غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی مدد کرنے کی بناپر اس کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا- اس سعودی شہزادے نے مزید کہا کہ واضح ہے التویجری نے سعودی عرب کے عوام کے اربوں ڈالر مصری جرنیلوں کے ساتھ مل کر آپس میں بانٹ لئے ہیں اور یہ ڈالر مصری قوم تک نہیں پہنچے ہیں- کیونکہ مصری عوام کے حالات میں کوئي تبدیلی نہیں آئی ہے اور معاشی بحران بدستور جاری ہے- سعود بن سیف النصر نے اس بات پر زور دیا کہ شاہ عبداللہ نے اپنے مخالفین اور اصلاح پسندوں کو جیلوں میں ڈالا- دانشوروں کی توہین کی اور عدلیہ کو کمزور کر کے سعودی عرب میں اخلاقی برائیوں کو رواج دیا- اس سعودی شہزادے نے ان لوگوں کے ردعمل میں کہ جنہوں نے شاہ عبداللہ کا موازنہ شاہ سعود سے کیا تھا، کہا کہ شاہ سعود نے یمن عراق اور شام کو تباہ کرنے کے لئے بجٹ مختص نہیں کیا تھا-
.......
/169