6 فروری 2015 - 21:53
شکار پور کا واقعہ شیعہ سنی جنگ کے لیے دشمن کی ناکام کوشش

پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے شکار پور کے شہداء کی یاد میں قم کی مسجد اعظم میں ایک مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے شکار پور کے شہداء کی یاد میں قم کی مسجد اعظم میں ایک مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا۔
یہ مجلس عزا جو مجمع جہانی اہلبیت(ع) اور پاکستان میں دفتر رہبری کے نمائندے کی جانب سے منعقد کی گئی میں مجمع جہانی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ ڈاکٹر لک زائی نے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعہ کو دشمنان اسلام کی سازش قرار دیا۔
ڈاکٹر لک زائی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل اسی حادثے کے حوالے سے پاکستان گئے ہوئے ہیں کہا: ۱۹۶۳ سے اب تک اس علاقے میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور شیعہ سنی بھائیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ لیکن دشمنوں نے اس علاقے میں بھی مسلمانوں کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے مغربی ممالک میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ آئندہ چالیس سال تک یورپ اور امریکہ کے اکثر لوگوں کا دین اسلام ہو گا اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی ممالک میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب قرآن مجید ہے۔
ڈاکٹر لک زائی نے مزید کہا کہ ایک زمانے تک مارکسزم لوگوں کو اپنی طرف کھنچتی رہی لیکن ستر سال کے بعد اس نظریے کے خریدار ختم ہو گئے اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد استعماری طاقتوں کا زوال شروع ہو گیا اور دنیا میں اسلام کا بول بالا ہونے لگا۔
انہوں نے کہا کہ دشمنان اسلام کو یہ چیز انتہائی ناگوار گزری لہذا انہوں نے خود مسلمانوں کے درمیان ایسے عناصر پیدا کر دئیے جو اسلام کا چہرہ بگاڑنے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے ایک فرانسوی رائٹر نے شیعہ جیوپولوٹیک(Geopolitic) کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں یہ لکھا کہ مغرب کو صرف اگر کسی چیز سے خطرہ ہے تو وہ اسلام سے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے اندر عالمی حکومت کا تصور پایا جاتا ہے اور اس کے بعد اس رائٹر نے مغربی حکومتوں کو اس خطرے سے بچانے کے لیے راہ حل بھی پیش کیا اور کہا کہ اس خطرے سے بچنے کے لیے بھی ایک ہی راستہ ہے اور وہ شیعوں کو سنیوں سے الگ کرنا اور ان کے بیچ جنگ چھیڑنا ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین نجف لک زائی نے آخر میں کہا کہ مغربی حکومتوں کا اسلام سے یہ خوف ہی ہے جس کی بنا پر جب چند گنے چنے شیعہ کہیں قمہ زنی کرتے ہیں تو دنیا کا سارا میڈیا اس کو پیش کرتا ہے جبکہ اربعین حسینی(ع) پر کروڑوں شیعہ پیدل چل کر کربلا جاتے ہیں تو میڈیا اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲