اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اردنی پائلٹ کو جلانے کے داعش دہشتگرد گروہ کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے-
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے داعش دہشتگرد گروہ کے اس اقدام کم ہولناک قرار دیا ہے- انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش گروہ ایک دہشتگرد گروہ ہے جو انسانی جانوں کو کوئي اہمیت نہیں دیتا- انھوں نے دنیا کے تمام ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشتگردی کا مل کر مقابلہ کریں- واضح رہے کہ داعش دہشتگرد گروہ نے منگل کے روز ایسی ویڈیو فلم جاری کی ہے جس میں اردن کے پائلٹ کو جیل میں زندہ نذر آتش کرتے دکھایا گیا ہے- یہ تصاویر جاری کئے جانے کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ نے اپنا دورۂ امریکہ مختصر کرکے اردن واپس لوٹ آئے ہیں - داعش دہشتگرد گروہ نے اعلان کیا ہے کہ اردن کے اس پائلٹ کو مذاکرات ناکام ہوجانے کے بعد آگ میں جلایا گيا ہے- داعش دہشتگرد گروہ کی جانب سے اردنی پائلٹ کو نذر آتش کئے جانے کے بعد، اردن کے عوام نے ساجدہ الریشاوی نامی، اس خاتون کو پھانسی دیئے جانے کا مطالبہ ہے جس کی رہائی کیلئے داعش دہشتگرد گروہ، اردن کے اس پائلٹ کی رہائی سے سودا کرنا چاہتا تھا- داعش دہشتگرد گروہ کی جانب سے اردنی پائلٹ کو نذر آتش کئے جانے کے بعد اردنی حکام پر اس بات کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ وہ الریشاوی کو سزائے موت دیئے جانے کا اقدام کریں جس کی بناء پر اس خاتون کی سزائے موت کے حکم پر کبھی بھی دستخط کئے جاسکتے ہیں- ادھر اردن کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اردنی پائلٹ کو نذر آتش کئے جانے کے، داعش کے اقدام کا انتقام لیا جائے گا- اردنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ معاذ الکساسبہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا- دریں اثنا اردن کے ٹیلیویژن نے اعلان کیا ہے کہ داعش دہشتگرد گروہ نے اردن کو اس پائلٹ کو، کہ جس کے بدلے خاتون دہشت ساجدہ الریشاوی کی رہائی کا سودا کرنا چاہتا تھا، تین جنوری کو جلایاگیا ہے- داعش دہشتگرد گروہ سے وابستہ عراق کی اس خاتون کو داعش دہشتگرد گروہ کے کچھ اور افراد کے ہمراہ، جو اردن کی جیل میں ہیں، کسی وقت بھی پھانسی دی جاسکتی ہے- دریں اثنا مقتول پائلٹ آفیسر کے زندہ جلائے جانے کی خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں افراد دارالحکومت عمان کے مضافات میں اس جگہ پہنچ گئے جہاں ہلاک کیے جانے والے پائلٹ کے اہلخانہ اور ان کے عزیزوں نے احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے۔ لیفٹیننٹ معاذ الکساسبہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے میں ایک فضائی کارروائی میں شامل تھے اور ان کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا تھا لیکن اس حادثے میں بچ گئے تھے۔ داعش کے ہاتھوں اردن کے ایف سولہ طیارے کے گرائے جانے کے بعد یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہےکہ داعش کو طیارہ شکن ميزائل کس نے فراہم کئے تھے-
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے داعش دہشتگرد گروہ کے اس اقدام کم ہولناک قرار دیا ہے- انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش گروہ ایک دہشتگرد گروہ ہے جو انسانی جانوں کو کوئي اہمیت نہیں دیتا- انھوں نے دنیا کے تمام ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشتگردی کا مل کر مقابلہ کریں- واضح رہے کہ داعش دہشتگرد گروہ نے منگل کے روز ایسی ویڈیو فلم جاری کی ہے جس میں اردن کے پائلٹ کو جیل میں زندہ نذر آتش کرتے دکھایا گیا ہے- یہ تصاویر جاری کئے جانے کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ نے اپنا دورۂ امریکہ مختصر کرکے اردن واپس لوٹ آئے ہیں - داعش دہشتگرد گروہ نے اعلان کیا ہے کہ اردن کے اس پائلٹ کو مذاکرات ناکام ہوجانے کے بعد آگ میں جلایا گيا ہے- داعش دہشتگرد گروہ کی جانب سے اردنی پائلٹ کو نذر آتش کئے جانے کے بعد، اردن کے عوام نے ساجدہ الریشاوی نامی، اس خاتون کو پھانسی دیئے جانے کا مطالبہ ہے جس کی رہائی کیلئے داعش دہشتگرد گروہ، اردن کے اس پائلٹ کی رہائی سے سودا کرنا چاہتا تھا- داعش دہشتگرد گروہ کی جانب سے اردنی پائلٹ کو نذر آتش کئے جانے کے بعد اردنی حکام پر اس بات کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ وہ الریشاوی کو سزائے موت دیئے جانے کا اقدام کریں جس کی بناء پر اس خاتون کی سزائے موت کے حکم پر کبھی بھی دستخط کئے جاسکتے ہیں- ادھر اردن کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اردنی پائلٹ کو نذر آتش کئے جانے کے، داعش کے اقدام کا انتقام لیا جائے گا- اردنی فوج نے اعلان کیا ہے کہ معاذ الکساسبہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا- دریں اثنا اردن کے ٹیلیویژن نے اعلان کیا ہے کہ داعش دہشتگرد گروہ نے اردن کو اس پائلٹ کو، کہ جس کے بدلے خاتون دہشت ساجدہ الریشاوی کی رہائی کا سودا کرنا چاہتا تھا، تین جنوری کو جلایاگیا ہے- داعش دہشتگرد گروہ سے وابستہ عراق کی اس خاتون کو داعش دہشتگرد گروہ کے کچھ اور افراد کے ہمراہ، جو اردن کی جیل میں ہیں، کسی وقت بھی پھانسی دی جاسکتی ہے- دریں اثنا مقتول پائلٹ آفیسر کے زندہ جلائے جانے کی خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں افراد دارالحکومت عمان کے مضافات میں اس جگہ پہنچ گئے جہاں ہلاک کیے جانے والے پائلٹ کے اہلخانہ اور ان کے عزیزوں نے احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے۔ لیفٹیننٹ معاذ الکساسبہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے میں ایک فضائی کارروائی میں شامل تھے اور ان کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا تھا لیکن اس حادثے میں بچ گئے تھے۔ داعش کے ہاتھوں اردن کے ایف سولہ طیارے کے گرائے جانے کے بعد یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہےکہ داعش کو طیارہ شکن ميزائل کس نے فراہم کئے تھے-
























.......
/169