17 جنوری 2015 - 13:50
تاریخی نوادرات ایرانی تہذیب کو دنیا سے متعارف کرانے میں اہم ہیں: صدر روحانی

صدر 'حسن روحانی' نے کہا ہے کہ تاریخی نوادارات اور ثقافتی ورثہ ایرانی قوم کی روشن تاریخ اور تہذیب کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر 'حسن روحانی' نے کہا ہے کہ تاریخی نوادارات اور ثقافتی ورثہ ایرانی قوم کی روشن تاریخ اور تہذیب کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حجت السلام و المسلمين حسن روحاني نے يہ بات ہفتے كے روز بيلجئيم سے واپس لائي گئيں ايران كي 349 تاريخي اور ثقافتي اشياء كي نمائش كي تقريب ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.

اس موقع پر ثقافتي ورثے، سياحت اور دستكاري آرگنائزيشن كے سربراہ مسعود سلطاني فر اور صدر كے معاون خصوصي حسين فريدون بھي ايراني صدر كے ہمراے تھے.

حجت السلام روحاني نے مزيد كہا كہ تاريخي نوادرات ايك ايسا چراغ ہے جو ايراني تہذيب كو اجاگر كرتا ہے.

انہوں نے مزيد كہا كہ ايراني تاريخي اور ثقافتي اشياء دشمنوں كي طرف سے ايران مخالف منصوبوں كو ناكام كرنے ميں اہم كردار ادا كرتي ہيں.

قومي ميوزيم اور ايران كے مختلف شہروں كے ميوزيم ميں موجود تاريخي اور ثقافتي نوادرات كي اہميت كا ذكر كرتے ہوئے صدر روحاني نے مزيد كہا كہ يہ نوادرات ايران كي تاريخ اور تہذيب متعارف كرانے ميں بہت اہميت كي حامل ہيں.

ايراني صدر نے بيلجئيم سے 349 تاريخي اور ثقافتي نوادرات كو واپس لائي جانے پر ايراني حكام كي كوششيں كو سراہتے ہوئے اس موقع پر ايراني قوم كو مباركباد بھي دي.

1966 كے دوران ايك فرانسيسي خاتون نے دو ہزات سال پرانے 300 سے زائد تاريخي اور ثقافتي نوادرات جو ايران كے علاقہ خوروين سے دريافت ہوئے تھے ايران سے باہر لے گئي تھيں.

اس كے بعد ايراني حكومت نے 1982 سے بيلجئيم كي مختلف عدالتوں ميں درخواست داير كي كہ يہ ساري اشياء ايران كي ہيں اور ايراني حكومت اس كي واپسي كا مطالبہ كرتي ہے.

ايراني حكام كي متعدد كوششوں كے بعد يہ تاريخي نوادرات بلاخر وطن واپس لائي گئيں.

..............

242