اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کو ملازمت حاصل کرنے کے لیے برطانیہ کے کسی بھی دوسرے اقلیتی گروہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر، مسلمانوں کےلیےملازمت کی جگہوں پر انتظامی عہدہ حاصل کرنے کا امکان دیگر نسلی یا مذہبی کمیونٹی کے مقابلے میں سب سےکم ہے۔
برسٹل یونیورسٹی سے منسلک محققین ڈاکٹر رون جانسن اور ڈاکٹر نبیل الخطاب نے کہا کہ ایک مسلمان مرد کے لیے اپنے ہم عمر اور ایک ہی جیسی قابلیت رکھنے والے سفید فام برطانوی کے مقابلے میں ملازمت حاصل کرنے کا امکان 76 فیصد کم ہوتا ہے، اور ایک مسلمان خاتون کے لیے اپنی ہم منصب کے مقابلےمیں ملازمت حاصل کرنےکا امکان 65 فیصد سے زیادہ کم ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ، ’اگر یہ صورت حال اسی طرح برقرار رہتی ہے تو برطانیہ کے کثیر الثقافتی معاشرے کی ہم آہنگی کو اپنی لپیٹ میں لےسکتی ہے، ایک بہتر تعلیم یافتہ سیاہ فام یا مسلمان افراد کا اخراج، اس کی وسیع معاشرے میں ضم ہونے کی خواہش کو کمزورکرسکتا ہے۔'
انہوں نے اس امتیازی سلوک کی ممکنہ وجوہات کے حوالے سے کہا کہ، 'صورت حال یہ ہے کہ برطانیہ کے نسلی اور ثقافتی نظام میں مسلمانوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی نفرت کی وجہ سے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو ملازمتوں پر حد درجہ کم نمائندگی ملنے کا امکان رہا ہے ۔'
انھوں نے کہا کہ،'ایک مسلمان ہونے کا جرمانہ اس وقت اور بھی زیادہ بھرنا پڑتا ہے جب انتظامی عہدوں کی زیادہ تنخواہ پانے والی نوکریوں کے لیے درخواست بھیجی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ میں کسی بھی اقلیتی گروہ کے مقابلے میں پاکستانی مسلمان خواتین کے لیےملازمت حاصل کرنے کا امکان 65 فیصد کم ہے بھارتی مسلمان خواتین کے لیے 55فیصد بنگلہ دیشی خواتین کے لیے 51 فیصد اور سفید فام مسلم خواتین کے لیے 43 فیصد کم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲