6 جنوری 2015 - 20:14
اعتزاز حسن کی قربانی پاکستانی قوم کو کیا پیغام دے گئی؟ ایک سال کے بعد قوم دہشت گردی کے خلاف یکسو

پاکستان کی حکومت کی جانب سے ستارہ شجاعت اور ہیرالڈ میگزین کی جانب سے ہیرو آف دی ایئر کا اعزاز پانے والے اعتزاز حسن کی شہادت کی آج پہلی برسی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی حکومت کی جانب سے ستارہ شجاعت اور ہیرالڈ میگزین کی جانب سے ہیرو آف دی ایئر کا اعزاز پانے والے اعتزاز حسن کی شہادت کی آج پہلی برسی ہے۔ معصوم اعتزاز حسن نے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنا کر ثابت کر دیا کہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ، ایک لمحے کا فیصلہ انسان کو بقا بھی عطا کر تا ہے اور وقت کی گرد میں گم بھی کر دیتا ہے ۔ اعتزاز حسن نے بھی ایک لمحے میں فیصلہ کیا اور اپنی جان کی قربانی دے کر حیاتِ جاودانی خرید لی اور سینکڑوں بچوں کو نئی زندگی عطا کی۔ ہمارے ساتھی نے پاکستان کے سیاسی رہنما اور تجزیہ نگار ناصر شیرازی سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا حکومت پاکستان نے اعتزاز حسن کی قربانی کے بعد دہشتگردوں کے خلاف کوئی موثر کاروائی کی؟ اس پر ان کا کہنا تھا۔
گزشتہ سال ہنگو کے علاقہ ابراہیم زئی میں اسکول پر خود کش حملہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن جانباز اعتزاز حسن نے حملہ ناکام بنانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ 6 جنوری 2014 کی صبح اپنے اسکول کی جانب جاتے ہنستے مسکراتے بچوں میں اعتزاز حسن بھی شامل تھا جو نہیں جانتا تھا کہ چند لمحوں بعد وہ اس قوم کا اعزاز اور ہیرو بننے جا رہا ہے۔ اپنی پاک درسگاہ کی جانب بڑھتے ہوئے دہشت گرد کے ناپاک وجود کو اعتزاز نے اپنے ایمان کی طاقت سے روک لیا۔ اس عظیم شہادت کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے اعتزاز کوستارہ شجاعت، ہیرالڈ میگزین نے ہیرو آف دی ایئراور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کونسل نے گلوبل بریوری ایوارڈ کے اعزازات سے نوازا۔ 16 دسمبر کو پشاور اسکول پر کیے گئے بہیمانہ حملے کے بعد اعتزاز حسن کی قربانی کو مزید سراہا گیا۔ نوبل انعام یافتہ اور 2012 میں ہیرالڈ کی بہترین شخصیت کا اعزاز حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی نے اعتزاز حسن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بہادر لوگوں کی کمی نہیں، اعتزاز حسن کی کہانی ہمت، بہادری اور جرات کی تابندہ مثال ہے۔ 15 سالہ معصوم مگر مضبوط اعتزاز حسن نے سیکڑوں بچوں کی خاطر اپنی جان کی قربانی دے کر دشمنوں کو پیغام دیا کہ ابھی قوم کے اندر وہ نوجوان سپوت موجود ہیں جو اپنے ملک کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی سازش کو ناکام بنانے کی ہمت جرات اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن کیا ان کے بعد پاکستان کے معاشرے کو تباہی سے بچانے کیلئے دہشتگردوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی کی گئی اور دہشتگردوں کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھایا گیا؟ شاید پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس کا جواب نفی میں ہو۔ اس لئے کہ اگر اعتزاز حسن کی شہادت کے بعد حکومت دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتی اور دہشتگردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیتی تو شاید اس ملک میں دہشتگردی کے دوسرے واقعات کی طرح پشاور میں آرمی اسکول کا سانحہ رونما نہ ہوتا اور 132 معصوم بچے دہشتگردی کا شکار نہ ہوتے اور اس ملک میں اتنی قیمتی جانوں کا نقصان نہ ہوتا اس لئے کہ دہشتگردوں کا کام دہشت پھیلانا اور دہشتگردی کو عام کر کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہوتا ہے تاہم یہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنائے اور ملک میں اس قسم کے اقدامات کرے جن سے دہشتگردی نہ ہو اور عوام امن سے زندگی گذار سکیں۔ لیکن گذشتہ کئی برسوں سے دہشتگردوں نے پاکستان کے عوام کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ آئے دن ارض پاکستان پر بم دھماکے اور فائرنگ سے کئی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے لیکن اب یوں دکھائی دیتا ہے کہ حکومت نے سانحہ پشاور کے بعد دہشتگردوں کیلئے پاکستان کی سرزمین تنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی سلسلے میں آج اس ملک کی قومی اسمبلی اور اس کے بعد سینیٹ نےآئین میں آرمی ایکٹ 1952 کی ترامیم کی منظوری دی۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ ہزاروں لوگ دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں، ہماری معشیت تباہ ہوچکی ہے جسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ملک میں سزا و جزا کا کوئی تصور باقی نہیں رہ گیا تھا اب قوم نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کر لیا ہے، ملک میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جبکہ آج سے ٹھیک ایک سال قبل پاکستان کے جانباز اعتزاز حسن نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ پیغام دیا کہ اگر ارادے مستحکم ہوں تو دہشتگردوں کو شکست دی جاسکتی ہے چاہے ان کا نیٹ ورک کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔

.......

/169