28 دسمبر 2014 - 11:51
آل خلیفہ کی جیلوں میں قیدیوں پر ہولناک تشدد

بحرینی جیلوں میں شدید تشدد اور قیدیوں کی صحت و تندرستی کے سلسلے میں اس ملک کے سیکورٹی حکام کی بے توجہی کے باعث بہت سے سیاسی قیدی بھوک ہڑتا کئے ہوئے ہيں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی جیلوں میں شدید تشدد اور قیدیوں کی صحت و تندرستی کے سلسلے میں اس ملک کے سیکورٹی حکام کی بے توجہی کے باعث بہت سے سیاسی قیدی بھوک ہڑتا کئے ہوئے ہيں۔
اس سلسلے میں "جو" کی سینٹرل جیل کے قیدیوں نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے سیاسی قیدیوں پرتشدد کے سبب بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
اس بیان کےشروع میں آیا ہے کہ تشدد کی تازہ ترین مثال الدراز کے علاقے کے سیاسی قیدی احمد محمد حبیب العصفور پر کیا جانے والا شدید تشدد ہے ۔
یہ ایسے عالم میں ہے کہ آل خلیفہ کی جیلوں کی خراب صورت حال کے باعث، سیاسی قیدیوں میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہونا شروع ہوگئي ہيں۔
سیاسی قیدیوں کی جیلوں سے منظرعام پرآنے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان جیلوں کی صورت حال بہت خراب ہے اور اکثر رپورٹوں میں بحرینی جیلوں کا جرمن نازیوں کے دور حکومت کی جیلوں سے موازنہ کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں سامنے آنے والی رپورٹوں میں اس موضوع کی جانب بھی اشارہ کیاگیا ہے کہ آل خلیفہ کے اکثر جیلر باہر سے لائے گئے ہيں اور جیل کے قیدیوں پر مہلک تشدد کئے جاتے ہيں۔
یہ ایسے عالم میں ہے کہ بحرینی سیاسی شخصیتوں سے کی جانے والی تفتیش اور گرفتاری کا سلسلہ بھی کافی بڑہ گیا ہے اور اس کے باعث بحرین میں گھٹن کے ماحول میں اضافہ ہواہے۔
بحرین میں چودہ فروری دوہزارگیارہ سے آزادی ، انصاف اور منتخب حکومت کی تشکیل کے لئے پرامن عوامی مظاہرے ہو رہے ہيں جسے بحرینی حکومت بیرونی فورسز بالخصوص سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور اردن کے فوجیوں کی مدد سے کچل رہی ہے۔
آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت عوام کے مطالبات کا جواب دینے کے بجائے، بحرینی عوام کی سرکوبی اور گرفتاری تیز کرکے ان پر طرح طرح کے تشدد کررہی ہے۔
آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت نے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی اور ان کے برحق مطالبات کو کچل کر بحرین کو اس ملک کے عوام کے لئے ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے۔
آل خلیفہ کے تشدد کے باعث اب تک سیکڑوں بحرینی قتل اور ہزاروں زخمی یاگرفتار ہو کر طویل مدت قید کی سزا پا چکے ہیں۔
بحرینی مخالفین نے اعلان کیا ہے کہ اس وقت آل خلیفہ کی جیلوں میں دس ہزار سے زیادہ سیاسی قیدی ہیں جن میں سے ایک سو پچاس افراد کو عمر قید کی سزا دی جاچکی ہے۔
سیاسی قیدیوں میں ایک سوپچاس بچے بھی ہیں اور دوسوشہری سیکورٹی اہلکاروں کے تشدد اور ٹارچر کے باعث معذور ہوگئے ہیں۔
بحرین میں سیاسی قیدیوں کی تعداد میں اضافہ اور جیلوں میں سرگرم سیاسی شخصیتوں پر ہولناک تشدد ، ایسا موضوع ہے جس نے رائے عامہ کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے۔
بحرین میں آزادی و اختیار کی پہلے سے زیادہ خلاف ورزی اور گروہوں کو مٹانے نیز سیاسی شخصیتوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری نے بحرینی حکومت کی استبدادی ماہیت کو پہلے سے زيادہ نمایاں کردیا ہے۔
بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں شدت ایسے عالم میں سامنے آئي ہے کہ جب بین الاقوامی قانونی ادارے منجملہ اقوام متحدہ سے وابستہ انسانی حقوق کے ادارے اور تنظیمیں آل خلیفہ کےجرائم کے سامنے مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہيں اور اس موضوع نے آل خلیفہ کو مزید جری اور گستاخ بنا دیا ہے۔

.......

/169