اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سماجی کارکنوں کے مطابق، سماجی ویب سائٹوں پر اپنے نظریات و افکار کا اظہار کرنے اور خواتین کو ڈرائیونگ کے لیے اکسانے کے الزامات کے مدنظر جمعرات کو لوجین الہتھلول اور میسیٰ العمودی کے مقدمہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان خواتین کے مقدمہ کا انسداد دہشتگردی کی عدالت میں منتقل کرنے کے فیصلہ کا مقصد دراصل ان کارکنوں کے حوصلوں کو پست کرنا ہے جو حقوق نسواں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد ہے۔
جیل میں قید مذکورہ خواتین اس قسم کی پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر تحریک تحریک چلا رہی تھیں اور انہوں نے خود بھی ڈرائیورنگ کرکے قدامت پسند وہابی نظام کو چیلنچ کیا تھا۔
ریاض میں انسداد دہشت گردی کی جس عدالت میں ان کا مقدمہ منتقل کیا گیا ہے اس نے ماضی میں حقوق انسانی کارکنوں، پرامن طور پر جمہوری نظام کا مطالبہ کرنے والوں اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو طویل المدت سزائیں اور پھانسی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
مثال کے طور پر رواں سال میں حکومت پر نکتہ چینی اور تنقید کے لیے اس عدالت نے بزرگ شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر المر کو موت کی سزا سنائی اور انسانی حقوق کے ایک سرگرم وکیل ولید عبدالخیر کو عوام کو کسانے کے الزام میں پندرہ برس قید کی سزا سنائی ہے۔
.......
/169