اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کے سیکورٹی اہلکاروں نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے شیعہ آبادی والے علاقے العوامیہ میں ایک بچے سمیت چار افراد کو گولیاں مار کر شہید کردیا ہے- اس میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے- سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ متعدد مکانات میں آک بھی لگ گئی تاہم فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی-
سعودی سیکورٹی اہلکاروں نے جنہیں فوجی ہیلی کاپٹروں کی پشت پناہی حاصل تھی، العوامیہ میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے عام شہریوں اور سیاسی مخالفین کے گھروں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک کم سن بچے سمیت چار افراد شہید ہوگئے-
شہید ہونے والے ایک شخص کا تعلق ملک میں سیاس اصلاحات کے لئے جدوجہد کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم شباب الاحرار سے بتایا جاتا ہے-
بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ متعدد نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے-
رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی فوجیوں کی اندھا دھند فائرنگ کے نتجے میں متعدد مکانات میں آگ بھی لگی تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے آگ بجھانے والے عملے اور امدادی کارکنوں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی-
کہا جارہا ہے کہ سعودی سیکورٹی اہلکاروں نے العوامیہ کا بدستور محاصر کر رکھا ہے اور کسی بھی علاقے کے اندر جانے یا باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی-
سعودی وزارت داخلہ کے ایک اعلی عہدیدار جنرل مسورالترکی نے دعوی کیا ہے کہ یہ کاروائی دہشتگردوں کے خلاف کی گئی ہے تاہم علاقے کے لوگوں نے اس کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے-
اکثر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شیعہ آبادی والے علاقے العوامیہ کے لوگوں کو ملک پر مسلط خاندانی آمریت کے خلاف آواز اٹھانے اور جمہوریت کا مطالبہ کرنے کے جرم کی سزا دی جارہی ہے-
سعودی عرب کے مشرقی صوبے العوامیہ میں دوہزار گیارہ سے حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اور اس علاقے کے عوام ملک میں سیاسی اصلاحات اور متعصبابہ پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں-
مظاہرین ملک میں سیاسی اصلاحات اور امتیازی پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں-
یہ ایسی حالت میں ہے جب خطے کی بدامنی میں ملوث غیر ملکی دہشتگردوں کی بڑی سعودی باشندوں پر مشتمل ہے اور سعودی شاہی خاندان عراق ، اور شام میں دہشتگردوں کو بھیجنے کے علاوہ دہشتگرد گروہوں کی مالی اور لاجسٹک حمایت بھی کر رہا ہے-
سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کی تعداد بیس فی صد ہے لیکن ان کے ساتھ دوسرے درجہ کا سلوک کیا جاتا ہے- جبکہ سعودی شاہی خاندان کے شہزادے عوامی دولت کے ذریعے دنیا بھر میں عیاشیوں کا سامان فراہم کرتے رہتے ہیں-
سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کی تعداد تیس ہزار سے بھی زیادہ ہے-
ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر کرنے میں ناکامی کے سبب آل سعود حکومت کی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، ہمیشہ سے مذمت کرتی رہی ہیں-
.......
/169