19 دسمبر 2014 - 10:58
طالبان،سلفی وہابی دہشت گردانہ فکرکا نام/طالبانی فکر یزیدی فکر

طالبان اور اس جیسی عراق ، شام صومالیہ اور دیگر ممالک میں سرگرم دہشت گرد سلفی وہابی تنظیموں کی فکر دہشت گردانہ اور یزیدی و معاویائی فکر پر استوار ہےجس کی تعلیم و تدریس سلفی وہابی مدارس میں کھلم کھلا اور آشکارا طور پر دی جاتی ہے اور طالبانی فکر کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسے نام نہاد اسلامی مدارس کے خلاف ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے جہاں نام نہاد جہاد کے فتوے صادر کئے جاتے ہیں اور جہاں دہشت گردانہ تعلیم دی جاتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا : القاعدہ، طالبان، داعش ، النصرہ فرنٹ، بوکوحرام جیسی سلفی وہابی دہشت گرد تنظیموں کی فکر سلفی وہابی نظریہ پر استوار ہے اور یہ دہشت گرد تنظیمیں سلفی وہابی علماء کی ایما اور ان کے فتوؤں کی پشتپناہی کی بنا پر نام نہاد جہاد کے میدان میں اتری ہیں ۔ ان دہشت گرد تنظیموں کو جنت کی بشارت دینے والے مدارس اور نام نہاد علماء کے خلاف جب تک کارروائی نہیں کی جاتی تب تک طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جاری کارروائی عارضی اور وقتی ثابت ہوگی۔ معصوم جانوں اور بے گناہ افراد کو بچانے کے لئے سلفی وہابی فکر کا خاتمہ بہت ضروری ہے اور سلفی وہابی فکر کو ختم کرنے کے لئے سلفی وہابی مدارس کے خلاف کارروائی بہت ضروری ہے کیونکہ سلفی وہابی فکر یزيدی اور معاویائی فکر پر استوار ہے اور اس دہشت گردانہ فکر کے حامل لوگ اپنی خیالی جنت میں جانے کے لئے پشاور جیسے مزید سنگين اور ہولناک واقعات اور جرائم کا ارتکاب کرسکتے ہیں لہذا طالبان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کے حامی ملاؤں اورنام نہاد دینی مدارس کے خلاف بھی کارروائی بہت ضروری ہے اور پاکستا میں یہ مدارس حکومت اور سکیورٹی داروں کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہیں، جب تک اس شجرہ خبیثہ کو جڑوں سے نہیں اکھیڑا جائے گا تب تک اس کی شاخوں کو کاٹنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سلفی وہابی خطرناک فکر کے پیش نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ان نام نہاد اسلامی مدارس کے خلاف کارروائی بہت ضروری ہے جہاں طالبان دہشت گردوں کی تربیت کی جاتی ہے و جہاں سے وہ جنت کی لالچ میں پشاور جیسے المناک واقعات کو جنم دیتے ہیں، ان مدارس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جہاں سے طالبان معصوم اور بےگناہ بچوں کی لاشوں پر چڑھ کر جنت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

.......

/169