17 دسمبر 2014 - 17:16
پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد کی تصاویر

پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے میں جانبحق ہونے والے کم سن بچوں کی یاد میں پاکستان بھر میں تین روزہ یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تعلیمی ادارے بند ہیں اور لوگوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی دوکانیں اور کاروباری مراکز بند کردیئے ہیں-

متعدد سیاسی اور سماجی تنظیموں نے دہشتگردوں کے خلاف احتجاج اور جانبحق ہونے والے اسکولی بچوں کی یاد میں دعائیہ پروگراموں کا اعلان کر رکھا ہے۔

کراچی کے بعض علاقوں میں گزشتہ رات اسکولی بچوں کی یاد میں شمعیں بھی جلائی گئیں۔

اس موقع پر شرکا نے سانحہ پشاور کو دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانے والے سب سے بڑے بزدل ہیں۔

اس طرح کے واقعات سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

اس موقع پر زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاوں کے علاوہ مرنے والوں کے ایصال ثواب اور سوگوار لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بھی آج ہورہا ہے جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی شرکت کریں گے۔

دوسری جانب، سانحے میں جانبحق ہونے والوں کی نماز جنازہ بھی آج ادا کی جا رہی ہے۔

دس بچوں اور تین اساتذہ کی تدفین منگل کے روز ہی کردی گئی تھی۔
ادھر پاکستانی فوج کے ترجمان عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے میں ایک سو بتیس بچےاور نو اسٹاف ممبر شہید ہوئے جبکہ ایک سو اکیس بچوں اورتین اسٹاف ممبرز سمیت ایک سو چوبیس افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایس ایس جی کے دو افسران سمیت سات جوان بھی زخمی ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی ارعاصم سلیم آپریشن ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے کسی کو یرغمال نہیں بنایا بلکہ انہوں نے موجود افراد کو مارنا شروع کر دیا۔

انکا کہنا تھا کہ اگردہشت گرد یرغمال بنانےآتےتوکچھ مطالبات رکھتے-

درایں اثنا دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بھی آج ہورہا ہے جس میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے اپوزیشن رہنما عمران خان بھی شرکت کریں گے۔

عمران خان نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ہر اقدام کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ان بے گناہ اور نہتے بچوں پر کیا گیا جو اسکول کی کلاسوں میں بیٹھے ہوئے تھےـ
امریکا کے صدر باراک اوباما نے بھی طالبان کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے اسکولی بچوں کو نشانہ بناکر ایک بار پھر اپنی شرپسندانہ فطرت کا مظاہرہ کیا ہےـ
انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں ان کا ملک پاکستان کے عوام کے ساتھ ہےـ فرانس اور برطانیہ نے بھی پشاور حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہےـ
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی منگل کے روز ایک بیان میں طالبان کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ زیر تعلیم بچوں پر حملہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے-

۔۔۔۔۔۔۔

/169