اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق کابل میں خودکش بمبار نے بارود سے بھری اپنی موٹرسائیکل برطانوی سفارتخانے کی گاڑی سے ٹکرا دی، جس میں 6 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں سفارتخانے کے 2 اہلکار بھی شامل ہیں، ان میں ایک برطانوی اور دوسرا سفارتخانے کا افغان ملازم تھا۔ اس واقعے میں 4 راہگیر بھی جاں بحق ہوئے۔ برطانوی سفارتخانے کی گاڑی پر خودکش حملے کے کچھ دیر بعد کابل کے ڈپلومیٹک ایریا میں 4 دھماکے اور وقفے وقفے سے اندھادھند فائرنگ بھی ہوتی رہی۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں غیرملکی سفارتکاروں کے دفاتر اور رہائشی عمارات کے علاوہ افغان حکومت کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کے مکانات بھی واقع ہیں۔
طالبان کے ترجمان نے ایک غیرملکی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خودکش حملہ، سفارتی علاقے میں بم دھماکے اور فائرنگ ان کے جنگجوؤں کا کارنامہ ہے۔ ان کا ہدف ایک گیسٹ ہائوس تھا جہاں اکثر غیر ملکی قیام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی قابض بیرونی طاقتوں کے ساتھ نئی افغان حکومت کے حالیہ معاہدے پر ہمارا ردعمل تھا کیونکہ اس کے مطابق حکومت نے غیر ملکی فوجیوں کو افغانستان میں مزید قیام کی اجازت دے دی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد آزادی کیلئے ہماری جدوجہد کو کچلنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ آئندہ بھی اپنے دشمنوں پر حملے کرتے رہیں گے۔
ایک برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے اپنے سفارتخانے کی گاڑی پر خودکش حملے کو بزدلانہ اور احمقانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے یہ حقیقت نمایاں ہوگئی ہے کہ ہمارے سکیورٹی اہلکار افغان عوام کے بہتر مستقبل کی خاطر انتہائی سنگین خطرات کے باوجود اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ افغانستان میں مقیم غیر ملکی نامہ نگاروں کے مطابق واقعے کے فوری بعد بہت بڑی تعداد میں افغان سکیورٹی اہلکاروں نے متاثرہ علاقے کا محاصرہ کر لیا اور اطراف کی تمام گلیوں کو بند کرکے یہاں گاڑیوں اور پیدل افراد کی آمد ورفت روک دی۔ تاہم کوئی افغان پولیس افسر اس واقعے کی تفصیل بتانے پر آمادہ نہیں ہوا۔
افغان سیاسی مبصرین نے نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ 10 روز کے دوران افغانستان میں کم از کم 8 بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیٹو فوجیوں کی تعداد میں کمی ہو گئی تو ملک میں سکیورٹی کے حالات مزید خراب ہونے کا خطرہ ہو گا۔
.......
/169