اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ جولان کی پہاڑی علاقے میں اسرائیلی فوجیوں اور شام کے مسلح افراد کے درمیان براہ راست رابطہ ہے اور اسرائیلی فوج نے مسلح مخالفین کو پناہ دینے کے لئے ایک کیمپ بھی لگا رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی باضابطہ رپورٹ کو جولان میں تعینات اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے تیار کی ہے۔ رپورٹ میں اسرائیل اور شام کی حکومت مخالف مسلح افراد کے درمیان تعاون کی سطح کا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ڈیڑھ سال کے دوران دونوں فریق کے درمیان تعاون میں کافی اضافہ ہوا ہے۔
صیہونی اخبار ہاآرتض کے سیاسی امور کے مبصر باراک رافد نے اتوار کو بتایا کہ یہ رپورٹ سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان کو دی گئی تاکہ وہ اس سے مطلع ہوں اور اس کے بعد اسے اقوام متحدہ کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ رپورٹ میں شام کی سرحد پر اسرائیلی فوجی حکام اور فوج کے شام کے مسلح مخالفین کے درمیان رابطے کا انکشاف کیا گیا ہے جو شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں ہیں۔
رپورٹ مارچ 2013 کے واقعہ سے شروع ہوتی ہے جب اسرائیلی فوج نے شام کے حکومت مخالف مسلح افراد کے علاج کے لئے سرحد پر ایک کیمپ بنایا اور اس کے بعد وہ انہیں اسپتالوں میں منتقل کرتے تھے۔ شروع میں اسرائیلی فوج نے دعوی کیا کہ وہ عام شہریوں کا علاج کر رہے ہیں اور انہوں نے شام میں سرگرم مسلح گروپوں سے ہر قسم کے تعاون کو مسترد کر دیا لیکن اقوام متحدہ نے اسرائیل کی ان باتوں کی تردید کر دی ۔ صہیونی اخبار لکھتا ہے کہ شام کے مسلح مخالفین اور اسرائیلی فوج کے درمیان براہ راست رابطہ ہے۔
.......
/169