24 نومبر 2014 - 14:41
اہل سنت کے عقیدے کے مطابق کسی کو کافر ٹھہرانے کی اجازت نہیں:قاضی نذیر احمد حنفی

افغانستان سے آئے ہوئے حنفی عالم دین نے کہا:اہل سنت اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر دوسرے کو کافر ٹھہرانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔قرآن کریم کا پوری صراحت کے ساتھ اعلان ہے کہ مسلمانوں کا قتل گناہ کبیرہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا: افغانستان کی علماء کونسل کے رکن قاضی نذیر احمد حنفی نے انتہا پسند اور تکفیری تحریک کے سلسلہ میں جاری دو روزہ کانفرنس کو آج خطاب کیا۔انہوں نے اسلامی اتحاد کو ضروری جانتے ہوئے کہا:تمام مسلمان ایک سا عقیدہ رکھتے ہیں اور اگر اختلاف ہے تو فرعی مسائل میں۔آجکل تکفیری تحریک مسلمانوں کو کافر ٹھہراتی ہےجبکہ سنت پیغمبر(ص) میں  بغیر دلیل کے کسی کو کافر قرار دینے سے منع کیا گیا ہے۔تکفیریت کی ممانعت کے سلسلہ میں احادیث بالکل واضح ہیں اور اھل سنت کے بزرگ علماء صراحت کے ساتھ اس سے منع کرتے ہیں۔
افغانستان سے آئے ہوئے حنفی عالم دین نے کہا:اہل سنت اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر دوسرے کو کافر ٹھہرانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔قرآن کریم کا پوری صراحت کے ساتھ اعلان ہے کہ مسلمانوں کا قتل گناہ کبیرہ ہے۔افغانستان میں شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے وہاں یہ دونوں سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔
قاضی نذیر احمد حنفی نے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا:یورپ میں سرحدیں ختم کر دی گئی ہیں اور ایک کرنسی میں سب اپنے معاملات انجام دیتے ہیں لیکن اس کے بر خلاف اسلامی ممالک میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان سیاستداں آپسی جنگ کا خاتمہ کریں اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اتحاد و ہمدلی کی فضا  قائم کریں۔
یاد رہے کہ "علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس" عنوان کے تحت ایران کے مذہبی شہر قم میں دو روزہ کانفرنس جاری ہے۔ جس میں شرکت کے لئے دنیا بھر سے علماء اسلام بڑی تعداد میں حاضر ہوئے ہیں۔اس کانفرنس کا انعقاد امام کاظم (ع) نامی ایک ثقافتی مرکز اور مدرسہ میں کیا گیا ہے۔آج یہ کانفرنس ممتاز مقالہ نگاروں کی قدردانی اور مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سبحانی کی تقریر کے بعد اپنے اختتام کو پہونچے گی۔۔

...............

242

نذیر احمد حنفی:افغانستان میں شیعہ سنی سکون رہتے ہیں

 

اھل بیت نیوز ایجنسی۔ابنا:افغانستان کی علماء کونسل کے رکن قاضی نذیر احمد حنفی نے انتہا پسند اور تکفیری تحریک کے سلسلہ میں جاری دو روزہ کانفرنس کو آج خطاب کیا۔انہوں نے اسلامی اتحاد کو ضروری جانتے ہوئے کہا:تمام مسلمان ایک سا عقیدہ رکھتے ہیں اور اگر اختلاف ہے تو فرعی مسائل میں۔آجکل تکفیری تحریک مسلمانوں کو کافر ٹھہراتی ہےجبکہ سنت پیغمبر(ص) میں  بغیر دلیل کے کسی کو کافر قرار دینے سے منع کیا گیا ہے۔تکفیریت کی ممانعت کے سلسلہ میں احادیث بالکل واضح ہیں اور اھل سنت کے بزرگ علماء صراحت کے ساتھ اس سے منع کرتے ہیں۔

افغانستان سے آئے ہوئے حنفی عالم دین نے کہا:اہل سنت اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر دوسرے کو کافر ٹھہرانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔قرآن کریم کا پوری صراحت کے ساتھ اعلان ہے کہ مسلمانوں کا قتل گناہ کبیرہ ہے۔افغانستان میں شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے وہاں یہ دونوں سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

قاضی نذیر احمد حنفی نے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا:یورپ میں سرحدیں ختم کر دی گئی ہیں اور ایک کرنسی میں سب اپنے معاملات انجام دیتے ہیں لیکن اس کے بر خلاف اسلامی ممالک میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان سیاستداں آپسی جنگ کا خاتمہ کریں اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اتحاد و ہمدلی کی فضا  قائم کریں۔

یاد رہے کہ "علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس" عنوان کے تحت ایران کے مذہبی شہر قم میں دو روزہ کانفرنس جاری ہے۔ جس میں شرکت کے لئے دنیا بھر سے علماء اسلام بڑی تعداد میں حاضر ہوئے ہیں۔اس کانفرنس کا انعقاد امام کاظم (ع) نامی ایک ثقافتی مرکز اور مدرسہ میں کیا گیا ہے۔آج یہ کانفرنس ممتاز مقالہ نگاروں کی قدردانی اور مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سبحانی کی تقریر کے بعد اپنے اختتام کو پہونچے گی۔۔