اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودي عرب کي سرحدي فورس کے ايک ترجمان محمد الفہمي کا کہنا ہے کہ ملک کي شمالي سرحدي پٹي پر حائل علاقے کوملک کے اندر بيس کلو ميٹر تک وسعت ديدي گئ ہے۔
محمد الفہمي نے اس خبر کے ضمن ميں سعودي باشندوں سے کہا کہ وہ عراق کے ساتھ سرحد پر اعلان شدہ حدود کے قريب جانے سے گريز کريں۔
عراق کي سرحد پر سعودي عرب ميں حائل پٹي پہلے کتني تھي ، سعودي عرب کے اس عہديدار نے اپنے بيان ميں اس کا کوئي ذکر نہيں کيا تاھم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کي جانب سے حائل ديوار کا دائر بڑھانے کا اقدام ، اسلحے اور منشيات کے اسمگلروں اور بقول ان کے باغيوں کي رفت آمد کو روکنے کے مقصد سے کيا گيا ہے۔
سعودي عرب تکفيري دہشت گرد گروہ داعش کي مالي اور سياسي مدد وحمايت کے علاوہ اس گروہ کو بڑے پيمانے پر ہتھيار بھي فراہم کررہا ہے۔ عراقي عوام اور اعلي سرکاري حکام ہميشہ يہ کہتے رہے ہيں کہ رياض حکومت دہشت گردوں کي حمايت کررہي ہے اور عراق ميں جاري دہشت گردي کا باعث و باني سعودي عرب ہے۔
داعش سے موسوم بدنام زمانہ تکفيري دہشتگرد گروہ، عراق اورشام کے متعدد علاقوں پر قابض ہے اور اپنے زيرقبضہ علاقوں ميں بسنے والےمختلف مذاہب اور مسالک کے پيروؤں کے خلاف انتہائي ہولناک جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔
.......
/169