اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے آج انسانی حقوق کی اس قرارداد پر کہ جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 69 ویں اجلاس کی تیسری کمیٹی میں منظور کی گئی ہے، ردعمل ظاہر کرتےہوئے کہا ہے کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ انسانی حقوق کے مسئلے کو بعض مغربی ممالک بطور ہتھکنڈہ استعمال کررہے ہيں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں، انسانی حقوق سے متعلق منظور ہونے والی قرارداد کو بنیادی طور پر مسترد کرتااور اسے بے اہمیت قرار دیتاہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے مزید کہا کہ جنرل اسمبلی کے 69 ویں اجلاس میں ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق قرارداد کا منصوبہ کینڈا نے گذشتہ چند برسوں کی طرح اس سال بھی پیش کیا تاہم اس میں حقائق کو نظر انداز کرکے سیاسی اغراض و مقاصد کے تحت اسے منظوری دے دی گئی ۔ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے قرارداد میں مندرج دعووں کا، حکومت ایران کی جانب سے ٹھوس اور مدلل جواب دیئے جانے کا ذکر کرتے ہوۓ کہا کہ بعض مغربی ممالک اس طرح کی قراردادوں کی منظوری کے ذریعے صہیونی حکومت کی جارحیت پر پردہ ڈالنے اور خومختار و آزاد ملکوں پر دباؤ ڈالنے ميں کوشاں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران میں دینی عوامی حاکمیت کا نظام ہے اورایران نے مذہبی اصولوں اور اپنے بنیادی آئين اور قوانین نیز بین الاقوامی قوانین کے مطابق انسانی حقوق کے ارتقاء کی راہ میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قدم اٹھایا ہےاور عملی طور پر بھی ان اصول اور قوانین کا پابند رہا ہے اور ہے۔ واضح رہے کہ منگل کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی نے ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں کینڈا کی حکومت کی مجوزہ قرار داد کے مسودے کے جائزہ کے لئے اجلاس تشکیل دیا اور اسی طرح جیسے توقع کی جارہی تھی، اس قرار داد کو تہران کے خلاف منظور کرلیا گیا۔
.......
/169