19 نومبر 2014 - 17:40
عراق عوام کے قتل عام کا مزید سامان فراہم، داعش نے ’’سی فور‘‘ بم ٹیکنالوجی پر رسائی حاصل کر لی

داعش نے جو حالیہ دنوں بم تیار کئے ہیں ان میں جدید ترین دھماکہ خیز مواد’’ سی فور‘‘ کا استعمال کیا ہے جو ’’ ٹی این ٹی‘‘ سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراقی عوام کے قتل عام کے لیے کار بم دھماکہ داعش کے پاس ایک اہم ہتھکنڈہ ہے جس کے بل بوتے پر داعش داعش باآسانی عراقی میں دھشت پھیلا کر مزید علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے، حالیہ دنوں اس دھشتگرد ٹولے نے جدید ٹیکنالوجی کے تحت زیادہ مار کرنے والے بم بنانا شروع کر دئے ہیں جو عراقی فوج کی بلڈ پروف گاڑیوں کو بھی اسانی سے اڑا سکتے ہیں۔
داعش کے زیادہ تر عناصر صدام ملعون کی فوج کے کمانڈر ہیں اسی وجہ سے وہ دستی بم تیار کرنے اور انہیں زمین میں پنہان کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ گروہ بم بنانے میں دھماکہ خیز مواد کو استعمال کررہا ہے جو موصل اور تکریت پر قبضہ کرنے کے بعد اس کے ہاتھ لگا ہے۔
بعثی گروہ کے عناصر نے داعش کو بم فٹ کرنے کا ایک طریقہ یہ بتایا ہے کہ وہ زمین میں بم رکھتے ہوئے چند بموں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھیں تاکہ ایک بم پھٹنے سے باقی والے بھی دھماکہ کریں جس کی وجہ سے بھاری مار کی جا سکے۔

داعش نے جو حالیہ دنوں بم تیار کئے ہیں ان میں جدید ترین دھماکہ خیز مواد’’ سی فور‘‘ کا استعمال کیا ہے جو ’’ ٹی این ٹی‘‘ سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔
داعش کے عناصر ان بموں کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کرنے کے لیے نمک کی بوریوں میں پیک کرتے ہیں جن کا کشف کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق داعش نے عراق کی کئی جگہوں پر اس طرح کے بم زمین میں گاڑ دیا ہے جن کا معلوم کرنا بہت دشوار ہے عراق کے ایک سکیورٹی افسر کا کہنا ہے کہ داعش نے اپنے زیر تسلط علاقوں میں عام رفت و آمد والی جگہوں پر مینس اور بم گاڑ دئے ہیں یہاں تک کہ سڑکیں، باغات، لوگوں کے گھر، بجلی گھر کچھ بھی داعش کے اس اقدامات سے محفوظ نہیں ہے۔
اس سے بھی زیادہ قابل تعجب بات یہ ہے کہ داعش نے لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کے فریجوں اور ٹیلی ویژنوں میں بھی بم لگا دئے ہیں۔
ابنا کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج کے عہدہ داروں نے اعلان کیا ہے کہ دو علاقوں جرف الصخر اور بیجی میں سب سے زیادہ بم گزاری کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ عراقی افواج نے گزشتہ ماہ جرف الصخر کو داعش کے چنگل سے آزاد کروایا ہے اس کے بعد وہ اس شہر میں روزانہ ۲۰۰ بم ناکارہ بناتے ہیں تاہم انہوں نے چار ہزار بموں کو اس علاقے میں ناکارہ بنایا ہے۔


یہ ایسے حال میں ہے عراقی عہدہ داروں نے بتایا ہے کہ جرف الصخرہ میں اس سے دس گنا زیادہ بم ابھی بھی موجود ہیں۔اس لیے کہ جب داعش کا اس علاقے پر قبضہ تھا تو وہ روزانہ ۷۰ بم زمین میں گاڑتے تھے۔