اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے امور ميں اقوام متحدہ کے خصوصي ايلچي اسٹيفن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ شام ميں بحران و خونريزي کے ساڑھے تين سال پورے ہورہے ہيں اسلئے ہميں اب اس بحران کے خاتمے کيلئے نيا طريقہ اختيار کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ شام کا بحران فوجي طريقے سے حل نہيں کيا جاسکتا اسلئے اسے سياسي طريقے سے ہي حل کرنا ہوگا۔ انھوں نے اس سلسلے ميں ايک تجويز بھي پيش کي اور کہا کہ تمام فريقوں کي رضامندي سے اس پر عمل کئے جانے کي ضرورت ہے تاکہ شام سے اس بحران کا خاتمہ کئے جاسکے جس کي بناء پر خطرناک انساني الميہ رونما ہوسکتا ہے۔
شام کے امور ميں اقوام متحدہ کے خصوصي ايلچي اسٹيفن ڈیمستورا نے شام ميں امدادي کاروائيوں کا بھي ذکر کرتےہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کےسکريٹري جنرل بانکي مون کي زيرنگراني شہر حاب کو امداد رساني کے مرکز کي حيثيت سے منتخب کيا گيا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر حلب کا انتخاب اس بناء پر بھي عمل ميں آيا ہے کہ اس شہر کے عوام سخت حالات ميں زندگي بسر کررہے ہيں اور شہر حلب سب سے پہلے انساني الميے کا شکار ہوسکتا ہے۔ شام ميں اقوام متحدہ کي تحقيقاتي کميٹي نے اعلان کيا ہے کہ دہشتگرد گروہ کے افراد شام ميں وحشيانہ ترين جرائم کا ارتکاب کرکے عوام ميں رعب و وحشت کا باعث بنے ہيں۔
اس کميٹي نے ان تمام دہشتگردوں کي گرفتاري اور انھيں جنگي جرائم کي عدالت ميں پيش، نيز قرار واقعي سزا ديئے جانے کي ضرورت پر تاکيد کي ہے۔ داعش دہشتگرد گروہ، القاعدہ کي ہي ايک شاخ اور امريکي پروردہ ايک گروہ ہے جس کي تشکيل کا مقصد،عالم اسلام اور دنيائے عرب ميں مسائل پيدا کرنا اور اسي طرح دين اسلام کي ساکھ متاثر کرنا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے ہائي کمشنر زيد رعد زيدالحسين کا کہنا ہے کہ مارچ سنہ دو ہزار گيارہ ميں شروع ہونے والے بحران شام ميں ابتک دو لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہيں۔
.......
/169