13 نومبر 2014 - 11:39
مغرب کو ایران کی دھمکی، این پی ٹی کی بنیاد ہی قابل قبول

ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سکریٹری نے کہا ہے کہ ایران این پی ٹی سے باہر کسی بھی چیزکو قبول نہیں کرے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق علی شمخاني نے ملک کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے حکام کے ساتھ ہفتہ وار اجلاس میں علاقے کی تازہ صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری مذاکرات کے عمل میں این پی ٹی باہر کسی بھی چیز کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جوہری مذاکرات میں مفاہمت فریق کے مقابل کے منطقی، سیاست سے دور اور حقائق پر مبنی رویے سے ممکن ہے، زور دیا کہ تہران جوہری مذاکرات جاری رکھے گا اور پرامن ایٹمی سرگرمیوں میں پوری شفافیت اختیار کرے گا۔

ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سکریٹری علی شمخاني نے کہا کہ ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے درمیان تعاون، این پی ٹی کے تناظر میں شفاف سرگرمیوں پر مبنی ہیں، یہاں تک کہ کچھ مواقع پر اس سے زیادہ بھی تعاون ہوا اور ایجنسی کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات یہاں تک کہ فوجی تنصیبات کے بے شمار معائنے میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان جاری وسیع تعاون کے دوران عائد تمام پابندیاں غیر قانونی ہیں جنہیں ختم ہونا چاہئے۔ علی شمخاني نے کہا کہ جوہری مذاکرات میں مفاہمت کے حصول کے عمل کے سست ہونے کی بنیادی وجہ، امریکا کی جانب سے صیہونی حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے جاری رہنے سے مفاہمت کے حصول کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوگی اور مذاکرات کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

.......

/169