13 نومبر 2014 - 11:22
اسرائیل کی زبردستی، اقوام متحدہ کی کمیٹی کو نہیں دے گا ویزا

صیہونی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کو ویزا نہیں دے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس اعلان کے مطابق اسرائیل، اس کمیٹی کے ساتھ بالکل بھی تعاون نہیں کرنا چاہتا ہے۔ بدھ کو جاری اس سرکاری اعلان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، غزہ کی جنگ کے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی سے کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کرے گا۔ موجودہ وقت میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے رکن اردن کے دارالحکومت عمان میں اسرائیل کے ويزے کے منتظر ہیں۔

 صیہونی حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایسی حالت میں کی گئی ہے کہ جب اس غیر قانونی و ناجائز حکومت کےحکام غزہ کی جنگ کے بارے میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کو بارہا اسرائیل مخالف قرار دے چکے ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے 51  روزہ حملوں میں 2000 سے زائد فلسطینی شہید اور 11000  سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

در ایں اثنا ایران میں فلسطین کے سفیر نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ میں جہاں پر فلسطین کے بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں پر اس جنگ کی وجہ سے غزہ کا90  فیصد پانی آلودہ ہو چکا ہے۔ صلاح الزواوی نے کہا کہ غزہ گزشتہ کئی برسوں سے صیہونی حکومت کے حملوں کو برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں ہمارے گھروں، اسکولوں، مساجد، بجلی گھروں اور واٹر سپلائی کے اداروں کو بری طرح سے نقصان پہنچا گیا ہے۔ انہوں نے کہا موسم سرما کے شروع ہونے کی وجہ سے غزہ کو دوسرے قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

.......

/169