اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فرانس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسپتال کے ذرائع کے مطابق دسیوں بچوں کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے اور بہت سے زخمی طلباء کے اعضاء ان کے جسم سے الگ ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق نائجیریا کے شمالی مشرقی علاقے پوٹیسکم میں خود کش بمبار اسکول کی عمارت میں داخل ہوا اور عین اس وقت خود کو دھماکے سے اڑالیا جب بچے اسکول کے میدان میں اسمبلی کے لیے جمع تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ خود کش حملہ آور یونیفارم پہن کر بچوں کے ساتھ اسکول میں داخل ہوا جب کہ حکام کا کہنا ہے دھماکے کے پیچھے بوکو حرام کے شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔ حادثے میں زخمی طالب علموں نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکا اتنا زوردار تھا کہ اس کے بعد ہر طرف طلبا کے جسموں کے حصے بکھر گئے، اس موقع پر جب فوجی جائے حادثہ پر پہنچے تو وہاں موجود افراد نے ان پر پتھراؤ کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز انہیں دہشت گردوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ایک ہفتہ قبل اسی شہر میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے قبول کی تھی۔ بوکوحرام نے حالیہ ہفتوں میں نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں کئی قصبوں اور دیہات پر قبضہ کیا ہے۔ سنہ 2009 میں مسلح بغاوت کے آغاز کے بعد سے نائجیریا کی حکومت بوکوحرام پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲